دانتوں کے کیڑے سے بچاؤ کا مؤثر اور آسان طریقہ سامنے آگیا

Easy Way To Prevent Tooth Decay
سائنسدان دانتوں میں کیڑا لگنے سے بچاؤ کے لیے ایک ایسا طریقہ سامنے لائے ہیں جس میں ڈرلنگ، انجیکشن یا بے ہوشی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس طریقے میں سلور ڈائی امائن فلورائیڈ (SDF) نامی محلول دانت کے متاثرہ حصے پر لگایا جاتا ہے۔ یہ عمل صرف چند سیکنڈ میں مکمل کیا جاسکتا ہے۔
امریکا میں ہونے والی ایک بڑی کلینیکل تحقیق میں SDF کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ تحقیق کے مطابق یہ محلول بچوں کے دودھ کے دانتوں میں پیدا ہونے والی خرابی کو روکنے میں مددگار ثابت ہوا۔ ہر چھ ماہ بعد علاج کیے جانے پر تقریباً 38 فیصد دانتوں میں کیڑا مزید بڑھنے سے رک گیا۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ متاثرہ دودھ کے دانتوں میں نصف سے زیادہ میں خرابی کو آگے بڑھنے سے روکا جاسکا۔ اس طریقہ علاج کی خاص بات یہ ہے کہ دانت کے خراب حصے کو ڈرل سے نکالنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ڈاکٹر محلول کو براہ راست متاثرہ جگہ پر لگاتے ہیں۔
اس طریقہ کار سے خاص طور پر کم عمر بچوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ بچوں میں دانتوں کا علاج اکثر مشکل ہوجاتا ہے۔ بعض بچے ڈرل یا انجیکشن سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ کچھ صورتوں میں بچے کو علاج کے لیے بے ہوش بھی کرنا پڑتا ہے۔ SDF ایسے مریضوں کے لیے نسبتاً آسان متبادل فراہم کرسکتا ہے۔
یونیورسٹی آف مشی گن کی سربراہی میں ہونے والی اس تحقیق میں 6 سال سے کم عمر 830 بچوں کو شامل کیا گیا۔ بچوں کو مشی گن، نیویارک اور آئیوا کے مختلف ڈینٹل کلینکس، بچوں کے طبی مراکز اور دیگر پروگراموں کے ذریعے تحقیق کا حصہ بنایا گیا۔
تحقیق کے نتائج طبی جریدے JAMA Pediatrics میں شائع ہوئے ہیں۔ یہ تیسرے مرحلے کی کلینیکل آزمائش تھی۔ اس تحقیق کا مقصد SDF کی مؤثریت اور حفاظت کے حوالے سے مزید مضبوط شواہد حاصل کرنا تھا۔
دانتوں میں کیڑا لگنے کے روایتی علاج میں عموماً خراب حصہ نکال کر وہاں فلنگ کی جاتی ہے۔ اس عمل کے لیے ڈرل اور بعض اوقات انجیکشن کی ضرورت پڑتی ہے۔ بہت کم عمر بچوں کے لیے یہ علاج خاص طور پر مشکل ہوسکتا ہے۔ SDF میں دانت کے خراب حصے کو نکالنے کے بجائے محلول متاثرہ جگہ پر لگایا جاتا ہے۔
تحقیق کی سربراہ محقق اور یونیورسٹی آف مشی گن اسکول آف ڈینٹسٹری کی پروفیسر مارگریٹا فونٹانا کے مطابق یہ طریقہ مؤثر اور محفوظ پایا گیا ہے۔ اس کا استعمال کم عمر بچوں سمیت ایسے مریضوں میں بھی فائدہ مند ہوسکتا ہے جن کے لیے روایتی ڈینٹل علاج مشکل ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق دانتوں میں کیڑا لگنا بچوں میں عام مسئلہ ہے۔ امریکا میں 40 فیصد سے زیادہ بچے اس بیماری سے متاثر ہوتے ہیں۔ اگر دانتوں کی خرابی کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو شدید درد اور انفیکشن پیدا ہوسکتا ہے۔ بچوں کو کھانے اور سونے میں بھی مشکل پیش آسکتی ہے۔ بعض اوقات اس وجہ سے اسکول سے غیر حاضری بھی بڑھ جاتی ہے۔
SDF کا استعمال صرف بچوں تک محدود نہیں ہوسکتا۔ یہ طریقہ عمر رسیدہ افراد، جسمانی یا نشوونما سے متعلق مشکلات رکھنے والے افراد اور دانتوں کے علاج سے شدید خوف محسوس کرنے والے مریضوں کے لیے بھی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔
تاہم اس علاج کا ایک نمایاں نقصان بھی ہے۔ سلور ڈائی امائن فلورائیڈ دانت کے خراب حصے کو مستقل طور پر سیاہ کردیتا ہے۔ اسی وجہ سے بعض مریض ظاہری شکل کے حوالے سے اس طریقے کو پسند نہ کریں۔ اس کے باوجود کم عمر بچوں میں دانتوں کی خرابی کو روکنے کے لیے اسے ایک اہم اور نسبتاً آسان آپشن سمجھا جا رہا ہے۔
یہ تحقیق 2018 میں شروع کی گئی تھی۔ کووڈ 19 کی وبا کے دوران پیدا ہونے والی مشکلات کے باوجود محققین نے اپنا کام جاری رکھا۔ اس تحقیق کے لیے امریکی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ڈینٹل اینڈ کرینیوفیشل ریسرچ کی جانب سے 12 ملین ڈالر سے زائد فنڈز فراہم کیے گئے۔
محققین کے مطابق SDF کے نتائج دانتوں کی خرابی سے نمٹنے کے طریقہ کار میں اہم پیش رفت ثابت ہوسکتے ہیں۔ تاہم مریضوں کے لیے علاج کا انتخاب دانتوں کے ڈاکٹر کے مشورے سے کیا جانا چاہیے۔ ہر مریض کی حالت مختلف ہوسکتی ہے، اس لیے SDF یا کسی بھی دوسرے علاج کے استعمال سے پہلے ماہر سے مشورہ ضروری ہے۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










