پیر، 3-اگست،2026
پیر 1448/02/20هـ (03-08-2026م)

طالبان رجیم دہشت گرد گروہوں کو پڑوسی ممالک پر دباؤ کے لیے استعمال کر رہی ہے، اقوام متحدہ کے سابق عہدیدار

03 اگست, 2026 13:26

اقوام متحدہ کے سابق عہدیدار کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم نہ صرف القاعدہ کو پناہ فراہم کر رہی ہے، بلکہ فتنہ الخوارج کو پاکستان پر سرحد پار حملوں کی اجازت بھی دے رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی دہشتگردی سے متعلق پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کے سابق عہدیدار ایڈمنڈ فٹن براؤن نے افغان طالبان، القاعدہ اور فتنہ الخوارج یعنی ٹی ٹی پی کے آپسی گٹھ جوڑ کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔

افغان میڈیا آمو ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ افغانستان کی طالبان حکومت القاعدہ کو اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں، تربیت اور نئے افراد کی بھرتی کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔

ایڈمنڈ فٹن براؤن نے بتایا کہ افغان طالبان، القاعدہ اور فتنہ الخوارج کے درمیان باقاعدہ اتحاد قائم ہے اور طالبان انتظامیہ ان دہشت گرد گروہوں کو پاکستان کے اندر سرحد پار حملے کرنے کی کھلی اجازت دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مسلح مزاحمت میں تیزی، افغانستان طالبان کے ہاتھوں سے نکلنے لگا ہے، امریکی تھنک ٹینک

انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت افغانستان میں اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، ترکستان اسلامک موومنٹ اور جماعت انصار اللہ جیسے خطرناک شدت پسند گروہ بھی آزادانہ طور پر موجود ہیں۔

اقوام متحدہ کے سابق عہدیدار کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت ان تمام دہشت گرد گروہوں کو اپنے پڑوسی ممالک پر دباؤ بڑھانے اور اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

انہوں نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ افغان طالبان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی بھی طور پر مغربی ممالک کا قابل اعتماد شراکت دار نہیں سمجھنا چاہیے۔

مختلف ماہرین کے مطابق افغان طالبان دہشت گردوں کی سرپرستی اور سرحد پار حملوں کی سہولت کاری کر کے عالمی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سابق عہدیدار کے اس کھلے بیان نے افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی اور وہاں سے ہونے والی کارروائیوں سے متعلق پاکستان کے دیرینہ اور اصولی مؤقف کی مکمل تائید کر دی ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔