ہفتے میں ایک بار کریں یہ کام، چند ہفتوں میں پیٹ کی چربی میں فرق محسوس کریں

Weekly Exercise May Reduce Belly Fat
پیٹ اور کمر کے گرد جمع ہونے والی اضافی چربی کو صرف ظاہری شکل کا مسئلہ نہیں سمجھا جاتا۔
طبی ماہرین کے مطابق جسم کے اندرونی حصوں کے قریب جمع ہونے والی چربی صحت کے لیے زیادہ نقصان دہ ہوسکتی ہے۔ اسے عموماً ویسریل فیٹ کہا جاتا ہے۔ اس چربی کی زیادتی دل کے امراض، ذیابیطس اور دیگر صحت کے مسائل کے خطرے سے منسلک ہے۔
توند کی چربی کم کرنے کے لیے لوگ مختلف طریقے آزماتے ہیں۔ کئی افراد کے لیے باقاعدگی سے ورزش کرنا مشکل بھی ہوتا ہے۔ تاہم ہانگ کانگ میں ہونے والی ایک نئی تحقیق نے جسمانی سرگرمی کے حوالے سے دلچسپ نتائج سامنے رکھے ہیں۔ تحقیق کے مطابق ہفتے میں صرف ایک مرتبہ تیز رفتاری سے چہل قدمی بھی جسمانی چربی کم کرنے اور جسمانی فٹنس بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
ہانگ کانگ یونیورسٹی کی اس تحقیق میں 315 ایسے افراد شامل تھے جو موٹاپے کا شکار تھے۔ یہ کلینیکل ٹرائل ستمبر 2021 سے ستمبر 2024 تک جاری رہا۔ تحقیق کے دوران شرکا کو تین مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا تاکہ جسمانی سرگرمی کے اثرات کا موازنہ کیا جاسکے۔
پہلے گروپ میں شامل افراد نے ہفتے میں ایک مرتبہ تیز رفتاری سے چہل قدمی کی۔ دوسرے گروپ نے یہی ورزش ہفتے میں تین مرتبہ کی۔ تیسرے گروپ کو اس قسم کی ورزش نہیں کروائی گئی۔ اس گروپ کے افراد کو صحت سے متعلق تعلیمی سیشنز میں شامل کیا گیا۔
محققین نے شرکا کے جسم میں موجود چربی کی مقدار اور کارڈیو ریسیپٹری فٹنس کا مختلف اوقات میں جائزہ لیا۔ ان کی پیمائش تحقیق شروع ہونے سے پہلے کی گئی۔ اس کے بعد 16 ہفتے مکمل ہونے پر دوبارہ جائزہ لیا گیا۔ 32 ہفتوں کے بعد بھی نتائج کا جائزہ لیا گیا تاکہ ورزش کے اثرات کو بہتر انداز میں سمجھا جاسکے۔
تحقیق کے ابتدائی نتائج میں سامنے آیا کہ 16 ہفتوں کے بعد ورزش کرنے والے دونوں گروپس میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ حیران کن بات یہ تھی کہ ہفتے میں ایک مرتبہ تیز چہل قدمی کرنے والے افراد اور ہفتے میں تین مرتبہ ورزش کرنے والے افراد میں جسمانی چربی کی کمی تقریباً ایک جیسی رہی۔
محققین کے مطابق دونوں گروپس میں کارڈیو ریسیپٹری فٹنس میں بھی بہتری دیکھی گئی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جو افراد باقاعدہ ورزش کے لیے وقت نہیں نکال پاتے، وہ کم از کم ہفتے میں ایک مرتبہ تیز رفتاری سے چہل قدمی کو اپنے معمول کا حصہ بنا سکتے ہیں۔
تحقیق میں شامل تیز چہل قدمی عام واک سے کچھ مختلف تھی۔ شرکا پہلے تیز رفتاری سے چلتے تھے۔ اس کے بعد کچھ دیر معمول کی رفتار سے واک کرتے۔ پھر دوبارہ تیز رفتار چہل قدمی کی جاتی تھی۔ اس طرح ورزش کے دوران رفتار میں تبدیلی بھی شامل تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جسمانی سرگرمی کو معمول بنانا مجموعی صحت کے لیے اہم ہے۔ صرف ایک تحقیق کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ ہر شخص کے لیے ہفتے میں ایک بار ورزش ہی کافی ہوگی۔ ہر فرد کی جسمانی حالت، وزن، عمر اور صحت کی ضروریات مختلف ہوتی ہیں۔
خاص طور پر موٹاپے، ذیابیطس یا دل کے مسائل سے دوچار افراد کو ورزش کا نیا معمول شروع کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ مناسب غذا، روزمرہ جسمانی سرگرمی اور صحت مند طرز زندگی بھی جسمانی چربی کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












