پیر، 3-اگست،2026
پیر 1448/02/20هـ (03-08-2026م)

7 سے 8 گھنٹے سونے کے باوجود تھکن کیوں رہتی ہے؟ نئی تحقیق میں اہم وجہ سامنے آگئی

03 اگست, 2026 14:35

رات کو 7 سے 8 گھنٹے کی نیند لینے کے باوجود اگر صبح اٹھنے پر تھکن محسوس ہو تو اس کی وجہ صرف کم سونا نہیں ہوسکتی۔

نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نیند کا معیار بھی جسم اور ذہن کو ملنے والے آرام پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ بظاہر مناسب دورانیے کی نیند کے باوجود بار بار آنکھ کھلنے یا نیند میں خلل سے انسان دن بھر تھکاوٹ محسوس کرسکتا ہے۔

اسکاٹ لینڈ میں ایڈنبرگ یونیورسٹی کی جانب سے ہونے والی تحقیق میں درمیانی عمر کے افراد کی نیند اور صحت کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے خاص طور پر 50 سے 66 سال کی عمر کے افراد پر توجہ دی۔ تحقیق کے دوران ان کی نیند اور صحت سے متعلق معلومات تقریباً ایک سال تک جمع کی گئیں۔

محققین نے اس مقصد کے لیے اسمارٹ واچز اور سوالناموں سے مدد لی۔ حاصل ہونے والی معلومات سے معلوم ہوا کہ کئی افراد مناسب وقت تک سونے کے باوجود معیاری نیند حاصل نہیں کر پا رہے تھے۔ رات کے دوران بار بار آنکھ کھلنا اور نیند کا مسلسل متاثر ہونا ان مسائل میں نمایاں تھا۔

تحقیق کے مطابق تقریباً 90 فیصد افراد رات کے دوران جاگتے تھے۔ ان افراد کی مجموعی نیند کا دورانیہ تقریباً ساڑھے 6 سے 8 گھنٹے تک تھا۔ اس کے باوجود انہیں مکمل آرام حاصل نہیں ہوتا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف بستر پر گزارے گئے گھنٹوں کی تعداد نیند کے معیار کا مکمل اندازہ نہیں دیتی۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ تقریباً 70 فیصد افراد کسی نہ کسی قسم کے نیند کے مسئلے سے دوچار تھے۔ مجموعی طور پر تقریباً 92 فیصد افراد میں نیند سے متعلق کسی عارضے یا مسئلے کی نشاندہی کی گئی۔ محققین کے مطابق نیند میں بار بار خلل جسم کو مطلوبہ آرام حاصل کرنے سے روک سکتا ہے۔

سلیپ اپنیا بھی نیند متاثر ہونے کی ایک اہم وجہ ہوسکتی ہے۔ اس کیفیت میں سوتے ہوئے انسان کی سانس بار بار رکتی اور بحال ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں نیند مسلسل متاثر ہوتی رہتی ہے۔ خراٹے بھی اس مسئلے کی ایک عام علامت ہوسکتے ہیں۔ تاہم ہر شخص میں علامات ایک جیسی نہیں ہوتیں۔

ماہرین کے مطابق نیند کا مسلسل متاثر ہونا طویل مدت میں صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ ناقص نیند کو مختلف دائمی صحت کے مسائل کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جوڑا گیا ہے۔ ان میں ڈپریشن، ڈیمینشیا اور بعض دیگر سنگین بیماریاں شامل ہیں۔

تحقیق میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے ان عوامل کا بھی جائزہ لیا گیا جو نیند کے معیار کو متاثر کرسکتے ہیں۔ اس تجزیے میں ذہنی دباؤ، خوراک، ورزش اور شور کی آلودگی جیسے عوامل نمایاں رہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ روزمرہ زندگی کے حالات بھی نیند کے معیار پر براہ راست اثر ڈال سکتے ہیں۔

محققین کے مطابق درمیانی عمر کے افراد میں ملازمت سے متعلق دباؤ نیند متاثر ہونے کی ایک اہم وجہ بن سکتا ہے۔ کام کا دباؤ، ذہنی پریشانی اور مصروف معمول انسان کو بستر پر جانے کے باوجود مکمل سکون حاصل نہیں کرنے دیتے۔ نتیجتاً صبح اٹھنے کے بعد بھی تھکن برقرار رہ سکتی ہے۔

Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔