اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے حکومت کے ساتھ مل کر کام جاری ہے، گورنر اسٹیٹ بینک

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے حکومت کے ساتھ مل کر کام جاری ہے۔
ویڈیو لنک کے ذریعے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اسلامی بینکاری کے لیے باقاعدہ اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک اس کمیٹی کے فریم ورک کو شریعت کے مطابق بنانے پر کام کر رہا ہے۔ اسلامی مالیاتی نظام کی طرف منتقلی ایک اہم مرحلہ ہے، جس کے لیے اداروں اور متعلقہ ماہرین کے درمیان مسلسل رابطہ ضروری ہے۔
جمیل احمد نے کہا کہ حکومت نے دسمبر 2027 تک اسلامی بینکاری نظام کے نفاذ کے لیے حکمت عملی تیار کی ہے۔ اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے۔ اسلامی بینکاری کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری افرادی قوت کی استعداد کار میں بھی اضافہ کرنا ہوگا۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے اپنے خطاب میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 1948 میں اسٹیٹ بینک کے افتتاح کے موقع پر کیے گئے وعدے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی مالیاتی نظام کی فراہمی کا تصور قیام پاکستان کے ابتدائی دور ہی سے موجود تھا۔ موجودہ حکومت نے اسی سمت میں پیش رفت کے لیے دسمبر 2027 کی مدت مقرر کی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے گورنر نے فری لانسرز کے لیے کیے گئے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔ فری لانسرز کو سہولیات فراہم کرنے سے ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے۔ ڈیجیٹل شعبے سے وابستہ افراد کے لیے آسان مالیاتی سہولیات کی فراہمی کو بھی اہم قرار دیا گیا۔
جمیل احمد نے کہا کہ سرکاری اثاثوں کے حوالے سے ایک جامع اثاثہ جات رجسٹر تیار کرنے پر بھی کام جاری ہے۔ اس رجسٹر کا مقصد سرکاری اثاثوں کی بہتر معلومات اور ریکارڈ کو ایک منظم نظام کے تحت لانا ہے۔ اس اقدام سے اثاثوں کے انتظام اور نگرانی میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق اسلامی بینکاری نظام کو کامیاب بنانے کے لیے صرف مالیاتی اداروں میں تبدیلی کافی نہیں ہوگی۔ اس مقصد کے لیے تربیت یافتہ افراد اور ماہر افرادی قوت بھی ضروری ہے۔ بینکنگ شعبے سے وابستہ افراد کی صلاحیتیں بڑھانا بھی اصلاحات کا اہم حصہ ہوگا۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










