اسرائیلی عہدیداروں کے عالمی گرفتاری وارنٹ سوشل میڈیا پوسٹس سے ختم نہیں ہوسکتے، ایران

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگی جرائم کے حوالے سے اسرائیلی عہدیداروں کے خلاف جاری کیے گئے عالمی گرفتاری وارنٹ محض سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے ختم یا غیر مؤثر نہیں کیے جاسکتے۔
اسماعیل بقائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میں کہا کہ ایک بااختیار بین الاقوامی عدالتی ادارہ غزہ میں ہونے والے واقعات کی تحقیقات کے بعد اسرائیلی عہدیداروں کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرچکا ہے۔
ایرانی ترجمان نے عالمی قانونی نظام کی ساکھ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر کی گئی ایک پوسٹ قانون کو تبدیل نہیں کرسکتی، قانونی طریقہ کار کو ختم نہیں کرسکتی اور نہ ہی کسی بین الاقوامی عدالت کے فیصلے کو منسوخ کرسکتی ہے۔
اسماعیل بقائی کا بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کی گئی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے ردعمل میں سامنے آیا، جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو امریکا کا دورہ کریں تو انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا، حالانکہ ان کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے گرفتاری کا وارنٹ جاری ہے۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت نے 21 نومبر 2024 کو نیتن یاہو اور اسرائیل کے سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ عدالت کے مطابق دونوں کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم سے متعلق کارروائی کی گئی۔
عدالت نے نیتن یاہو اور گیلنٹ کے خلاف جنگ کے طریقے کے طور پر بھوک کے استعمال کے جنگی جرم، جبکہ قتل، ظلم و ستم اور دیگر غیر انسانی اقدامات جیسے انسانیت کے خلاف جرائم کے حوالے سے ذمہ داری کا تعین کیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بین الاقوامی قانون کی بالادستی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی عدالت کے فیصلوں کو سیاسی بیانات یا سوشل میڈیا پیغامات کے ذریعے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کی صورتحال اور اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے عالمی سطح پر قانونی اور سفارتی بحث جاری ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










