ایران نے امریکی دفاعی نظام کو دباؤ میں ڈالنے کیلئے جنگی حکمت عملی تبدیل کرلی، رپورٹ

تہران: ایران نے حالیہ جنگ کے دوران میزائل اور ڈرون حملوں کی حکمت عملی میں تیزی سے تبدیلیاں کیں، جس کے نتیجے میں مغربی ایشیا میں امریکی فضائی دفاعی نظام پر دباؤ بڑھ گیا۔ امریکی پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کے ذخائر میں کمی بھی واشنگٹن کے لیے ایک اہم چیلنج بن گئی ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ پانچ روز تک جاری رہنے والے شدید حملوں کے دوران ایران نے اردن میں موجود 3 امریکی فوجی اڈوں پر ڈرونز اور میزائلوں کی متعدد لہریں داغیں۔ حملوں میں ایسی میزائل ٹیکنالوجی بھی استعمال کی گئی جو پرواز کے دوران اچانک اپنا رخ تبدیل کرسکتی ہے، جس سے امریکی دفاعی نظام کیلئے انہیں روکنا مزید مشکل ہوگیا۔
رپورٹ کے مطابق 17 جولائی کو ایک ایرانی میزائل امریکی دفاعی حصار عبور کرکے اردن کے ایک فوجی اڈے پر موجود عارضی رہائشی یونٹس سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں 3 امریکی فوجی ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ امریکی حکام نے اس دوران مزید فوجیوں کے زخمی ہونے اور متعدد طیاروں کو نقصان پہنچنے کی بھی تصدیق کی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حملے کے بعد کہا تھا کہ امریکی فورسز نے تقریباً تمام میزائل مار گرائے تھے، تاہم ایک میزائل دفاعی حصار سے گزرنے میں کامیاب ہوگیا۔
رپورٹ میں امریکی دفاعی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جنگ کے دوران امریکی فوج نے 1500 سے زائد پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز استعمال کیے، جبکہ اس وقت 1700 سے بھی کم انٹرسیپٹرز باقی رہ گئے ہیں۔ امریکا نے پورے 2025 میں تقریباً 600 پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز تیار کیے تھے۔
ایک ہی روز امریکی فورسز نے تقریباً 50 پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز استعمال کیے، جن میں سے ہر ایک کی لاگت تقریباً 40 لاکھ ڈالر بتائی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران نے اپنی حکمت عملی میں دیگر جنگوں سے بھی سبق حاصل کیا، خصوصاً یوکرین جنگ میں روس کی جانب سے میزائلوں اور ڈرونز کو مختلف انداز میں استعمال کرنے کی حکمت عملی سے فائدہ اٹھایا۔ میزائلوں اور ڈرونز کی مختلف لہروں کے ذریعے فضائی دفاعی نظام کو بیک وقت متعدد اہداف سے نمٹنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے دفاعی امور کے ماہر سیٹھ جی جونز کے مطابق میزائلوں اور ڈرونز کو ایک ساتھ مختلف سمتوں سے بھیجنے سے فضائی دفاع کیلئے خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی دفاعی نظام پر بڑھتا دباؤ اس وقت نمایاں ہوا جب پینٹاگون پہلے ایران کی میزائل صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچنے کے دعوے کرچکا تھا۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اپریل میں کہا تھا کہ ایران کا میزائل پروگرام بڑی حد تک تباہ کردیا گیا ہے اور اس کے لانچرز و میزائلوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق امریکی انتظامیہ نے ابتدا میں جنگ کے مختصر رہنے کی توقع کی تھی اور یہ اندازہ نہیں لگایا تھا کہ مسلسل کارروائیاں امریکی میزائل دفاعی ذخائر کو اس رفتار سے استعمال کریں گی۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر ولی نصر کے مطابق ایران نے جون 2025 کی 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیلی اور امریکی افواج کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں کے خلاف انٹرسیپٹرز کے استعمال کا مشاہدہ کیا تھا اور بعد میں اسی تجربے کو اپنی جنگی منصوبہ بندی میں شامل کیا۔
اردن میں واقع موفق السلطي ایئر بیس حالیہ حملوں کے دوران امریکی فوج کا ایک اہم مرکز بن گیا تھا۔ جنگ سے پہلے اور اس کے دوران کویت، بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات میں موجود بعض امریکی فوجی اہلکاروں اور اثاثوں کو اردن منتقل کیا گیا کیونکہ اسے ایرانی ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کے مقابلے میں نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا تھا۔
17 جولائی کے حملے کے بعد امریکی کمانڈروں نے اردن سمیت خطے کے دیگر مقامات پر فضائی دفاعی انتظامات مزید مضبوط کیے۔
ایران نے جنگ کے دیگر محاذوں پر بھی اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی۔ اپریل میں ایرانی فورسز نے جنوبی ایران کے اوپر ایک امریکی ایف 15 ای لڑاکا طیارہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کے مطابق طیارے کے پائلٹ اور ہتھیاروں کے افسر نے ایجیکٹ کیا تھا۔
امریکی فوجی حکام کے مطابق ایرانی ڈرونز نے علاقے میں موجود امریکی طیارے کے مقام، رفتار اور سمت سے متعلق معلومات فراہم کیں، جس کے بعد ان معلومات کو طیارے کو نشانہ بنانے کیلئے استعمال کیا گیا۔
امریکی حکام کے مطابق ایف 15 ای کے دفاعی نظام نے عملے کو میزائل حملے سے قبل انتہائی مختصر وقت میں خبردار کیا۔ تقریباً 6 کروڑ ڈالر مالیت کا یہ طیارہ جدید دفاعی صلاحیتوں کے باوجود مار گرایا گیا۔
اس واقعے نے یہ ظاہر کیا کہ ایران ڈرونز کو صرف حملوں کیلئے نہیں بلکہ نگرانی اور اہداف کی نشاندہی کیلئے بھی استعمال کررہا ہے، جس کے بعد زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے امریکی فضائی کارروائیوں میں موجود کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کے خلاف مزید بمباری کے منصوبوں کو روک دیا تھا اور کہا تھا کہ تہران سمیت خطے کے بعض ممالک نے جنگ بندی کی درخواست کی ہے جبکہ معاہدے کی بنیاد رکھنے والی شرائط پر پیش رفت ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے بھی خبردار کیا تھا کہ ایران کے خلاف امریکی حملوں میں مزید شدت سے خلیج فارس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو ایرانی جوابی کارروائی کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
ایران نے اپنی فوجی اور تزویراتی تنصیبات کے تحفظ کیلئے اہلکاروں اور اہم اثاثوں کو مختلف مقامات پر منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ زیر زمین مضبوط تنصیبات پر انحصار بھی بڑھایا ہے، جس سے امریکی اور اسرائیلی افواج کیلئے اہم اہداف کی نشاندہی اور انہیں نشانہ بنانا زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










