جمعہ، 14-اگست،2026
جمعہ 1448/03/01هـ (14-08-2026م)

مکہ دفاعی معاہدہ؛ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان مشترکہ فوجی، بحری و فضائی مشقیں کریں گے

14 اگست, 2026 10:28

ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان 7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور فوجی تعاون کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ترک وزارت دفاع کے مطابق معاہدے کے تحت مشترکہ فوجی، بحری اور فضائی مشقوں کا انعقاد کیا جائے گا، جبکہ دفاعی صنعت کے شعبے میں بھی تعاون بڑھایا جائے گا۔

ترک وزارت دفاع نے معاہدے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور فوجی تعلقات کو زیادہ ادارہ جاتی، منظم اور مستقل بنیادوں پر مضبوط بنانا ہے۔

مشترکہ فوجی، بحری اور فضائی مشقیں

معاہدے کے تحت ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کی مسلح افواج کے درمیان مختلف نوعیت کی مشترکہ مشقیں منعقد کی جائیں گی۔ ان مشقوں میں بری فوج کے ساتھ ساتھ بحری اور فضائی افواج بھی شریک ہوں گی۔

مشترکہ مشقوں کا مقصد تینوں ممالک کی افواج کے درمیان باہمی رابطے، تعاون اور مشترکہ آپریشنل صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے۔ اس کے علاوہ دفاعی شعبے میں تجربات اور مہارتوں کے تبادلے کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

دفاعی صنعتی تعاون میں اضافے کا فیصلہ

ترک وزارت دفاع کے مطابق مکہ دفاعی معاہدے میں دفاعی صنعتی تعاون کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ تینوں ممالک دفاعی پیداوار، ٹیکنالوجی اور دیگر متعلقہ شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے اقدامات کریں گے۔

اس تعاون سے مشترکہ دفاعی منصوبوں اور فوجی ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئے امکانات پیدا ہونے کی توقع ہے۔ پاکستان اور ترکیہ پہلے ہی دفاعی صنعت کے مختلف شعبوں میں تعاون کر رہے ہیں، جبکہ سعودی عرب بھی اپنی دفاعی صلاحیت اور مقامی دفاعی صنعت کو ترقی دینے پر توجہ دے رہا ہے۔

اعلیٰ سطحی رابطے کا نیا نظام

ترک وزارت دفاع کے مطابق معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک، سیاسی اور فوجی میکانزم پلان بھی قائم کیا جائے گا۔

اس نظام میں وزرائے دفاع، وزرائے خارجہ اور چیفس آف جنرل اسٹاف شامل ہوں گے، جس کے ذریعے تینوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کے درمیان مسلسل رابطہ برقرار رکھا جائے گا۔

ترک وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار کے ذریعے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ دفاعی و سلامتی سے متعلق معاملات پر اعلیٰ ترین سطح پر مشاورت کرسکیں گے۔

دفاعی تعلقات کو مستقل بنیادوں پر مضبوط بنانے کا عزم

ترک وزارت دفاع نے واضح کیا کہ مکہ معاہدہ صرف مشترکہ فوجی سرگرمیوں تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کو طویل مدتی اور ادارہ جاتی بنیادوں پر مستحکم کرنا ہے۔

معاہدے کے نتیجے میں فوجی مشقوں، دفاعی صنعت، اعلیٰ سطحی رابطوں اور اسٹریٹیجک تعاون کے مختلف شعبوں میں باقاعدہ روابط کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔

پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان پہلے سے موجود دفاعی اور سفارتی روابط کے تناظر میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو تینوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون کے ایک نئے مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔