’پاکستان امن کا سفیر‘، امریکا ایران کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی یورپی جریدے نے تائید کردی

Iran–US talks are expected to resume next week in Islamabad
اسلام آباد: یورپی سوشل ڈیموکریٹک حلقوں سے وابستہ معروف جریدے آئی پی ایس جرنل نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسلام آباد کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے کا مؤثر ذریعہ قرار دیا ہے۔
آئی پی ایس جرنل نے 14 اگست کو ’’پاکستان — دی پیس میکر‘‘ کے عنوان سے شائع مضمون میں کہا کہ موجودہ بحران کے دوران پاکستان نے فریق بننے کے بجائے مذاکرات، رابطے اور کشیدگی میں کمی کو اپنی سفارت کاری کا بنیادی محور رکھا۔
جریدے کے مطابق پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اور امریکا و ایران دونوں کے ساتھ دیرینہ تعلقات نے اسلام آباد کو موجودہ بحران میں ایک منفرد سفارتی مقام فراہم کیا ہے۔
آئی پی ایس جرنل کے مطابق پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں اور مذاکرات کی راہ ہموار کرکے اہم سفارتی کامیابی حاصل کی۔
جریدے نے پاکستان کی حکمت عملی کو محتاط اور خاموش سفارت کاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے فریقین کے مؤقف پر فیصلہ سنانے کے بجائے انہیں مذاکرات کی میز پر لانے اور کشیدگی کم کرنے پر توجہ مرکوز رکھی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان موجود اعتماد اور رسائی کو ایک اہم سفارتی اثاثے میں تبدیل کیا۔
آئی پی ایس جرنل کے مطابق اسلام آباد میمورنڈم خطے کو وسیع جنگ سے بچانے کے لیے ایک قابلِ عمل سفارتی فریم ورک بن سکتا ہے۔
جریدے نے پاکستان کی کوششوں کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جب خطے میں فوجی کشیدگی کے باعث امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست رابطوں کے امکانات محدود ہوچکے تھے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی سفارت کاری نے ایرانی مذاکرات کاروں کے لیے ایک ایسی محفوظ سفارتی گنجائش فراہم کی جہاں فریقین کشیدگی کے باوجود رابطہ برقرار رکھ سکتے تھے۔
آئی پی ایس جرنل نے پاکستان کے ماضی کے سفارتی کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے موجودہ بحران میں متحارب فریقوں کے درمیان رابطے کا پل بننے کی اپنی تاریخی روایت کو دوبارہ زندہ کیا ہے۔
جریدے کے مطابق پاکستان نے بیانات اور سیاسی محاذ آرائی کے بجائے محتاط، عملی اور نتیجہ خیز سفارت کاری کو ترجیح دی، جس سے اسے دونوں فریقوں تک رسائی برقرار رکھنے میں مدد ملی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت بھی اسے مشرق وسطیٰ کے بحران میں ایک اہم علاقائی سفارتی مرکز بناتی ہے۔
آئی پی ایس جرنل نے ایران کے جوہری معاملے کے پس منظر میں یورپی سفارت کاری کی حدود کا بھی جائزہ لیا۔
جریدے کے مطابق 2015 کے جوہری معاہدے سے امریکا کے انخلا کے بعد یورپی ممالک ایران کو وہ اقتصادی فوائد فراہم کرنے میں ناکام رہے جن کی تہران کو توقع تھی، جس کے نتیجے میں یورپی سفارتی اثرورسوخ محدود ہوا۔
اس صورتحال میں پاکستان ایران کے معاملے میں ایک نمایاں علاقائی سفارتی مرکز کے طور پر سامنے آیا، کیونکہ اسلام آباد کے پاس ایران کے ساتھ براہِ راست علاقائی روابط کے ساتھ ساتھ امریکا تک بھی رسائی موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق یورپی یونین نے پاکستان کے ثالثی کردار کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایک پائیدار معاہدے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
آئی پی ایس جرنل کے مطابق پاکستان اور یورپ کا مشترکہ مفاد بھی یہی ہے کہ خطے میں وسیع جنگ کو روکا جائے اور ایک ایسے سفارتی حل کی طرف پیش رفت کی جائے جو دیرپا امن کی بنیاد بن سکے۔
جریدے نے پاکستان کے موجودہ کردار کو کثیر قطبی عالمی نظام میں علاقائی طاقتوں کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثرورسوخ کی مثال قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق موجودہ بحران میں پاکستان نے کسی ایک فریق کی حمایت کرنے کے بجائے امن، مذاکرات اور رابطے کو ترجیح دے کر ایک ذمہ دار علاقائی کردار کا مظاہرہ کیا ہے۔
آئی پی ایس جرنل کے تجزیے کے مطابق پاکستان کی ایران سے قربت، امریکا کے ساتھ دیرینہ تعلقات اور خطے میں اس کی جغرافیائی اہمیت نے اسلام آباد کو موجودہ امریکا ایران بحران میں ایک ایسا سفارتی کردار ادا کرنے کا موقع دیا ہے جسے نظرانداز کرنا عالمی طاقتوں کے لیے مشکل ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











