امریکا کیساتھ مذاکرات کو جارحانہ سفارتکاری سمجھتے ہیں، باقر قالیباف

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکا کے ساتھ ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بارے میں اہم دعوے کیے ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرکے ایران کے مؤقف کو تسلیم کیا۔ اس مفاہمت میں خطے کی مزاحمتی قوتوں، ایران کے میزائل اور جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز سے متعلق اہم نکات شامل تھے۔
باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا کی طرف سے مذاکرات میں ایران پر کئی معاملات سے دستبردار ہونے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا۔ صدر ٹرمپ چاہتے تھے کہ ایران اپنے میزائل اور جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ خطے میں مزاحمتی سرگرمیوں اور آبنائے ہرمز کے معاملے کو بھی مذاکرات میں زیر بحث لائے۔ تاہم ایران نے ان مطالبات کو قبول نہیں کیا۔
ایرانی اسپیکر کے مطابق مذاکرات کے دوران ایک اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے بات کی۔ قالیباف کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے تحریری طور پر یہ بات بھی لکھی تھی کہ ایران آبنائے ہرمز کو کھول دے گا۔ ایران نے اس بیان کو اپنے لیے قابل قبول نہیں سمجھا اور مذاکرات کاروں کو فوری طور پر اس معاملے پر کارروائی کی ہدایت کی گئی۔
قالیباف نے بتایا کہ انہوں نے ایرانی مذاکرات کاروں سے کہا تھا کہ امریکی صدر اپنا بیان واپس لیں۔ اگر بیان واپس نہ لیا گیا تو ایران حملہ کرسکتا ہے۔ اس کے تقریباً 58 منٹ بعد صدر ٹرمپ نے اپنے بیان کا دوسرا حصہ سوشل میڈیا سے ہٹا دیا۔
ایرانی اسپیکر نے اس پیش رفت کو مذاکرات کا اہم نتیجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی رات امریکا نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی بھی ختم کردی۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے مذاکرات میں اپنے بنیادی مؤقف سے پیچھے ہٹے بغیر اہم نتائج حاصل کیے۔
باقر قالیباف نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کو معمول کی سفارتی سرگرمی قرار دینے کے بجائے اسے ’’جارحانہ سفارتکاری‘‘ قرار دیا۔ ایران نے مذاکرات کے دوران دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنی پوزیشن واضح رکھی۔ ایران نے اپنے مفادات اور خطے میں اپنی پالیسی کو سامنے رکھتے ہوئے بات چیت کی۔
قالیباف نے اسرائیل اور لبنان کے معاملے پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ جب اسرائیل نے لبنان کے علاقے داہیہ کو نشانہ بنایا تو انہوں نے اسرائیل کو انتقامی کارروائی سے خبردار کیا تھا۔ اسرائیل کی جانب سے پورے خطے کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے بعد ایران نے بھی سخت ردعمل کا اشارہ دیا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا کہنا تھا کہ اس دباؤ کے بعد اسرائیل نے دوبارہ حملہ کرنے سے گریز کیا۔ ایران کی واضح وارننگ کا مقصد خطے میں مزید کشیدگی کو روکنا تھا۔ انہوں نے اس معاملے کو بھی ایران کی علاقائی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










