اسرائیل کا فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینا جنگی جرم ہوگا، عرب لیگ

عرب لیگ نے مقبوضہ فلسطین کے قیدیوں کو سزائے موت دینے کے لیے اسرائیل کی جانب سے خصوصی مراکز قائم کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جنگی جرم قرار دیا ہے۔
عرب لیگ نے مقبوضہ فلسطین کے قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے خصوصی مراکز قائم کرنے کے اسرائیلی اعلان کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
عرب لیگ نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی فلسطینی قیدی کی سزائے موت پر عمل درآمد ایک سنگین جنگی جرم تصور ہوگا، جس کی سزا عالمی سطح پر دینی پڑے گی۔
عرب تنظیم نے اس قدم کو فلسطینی قیدیوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں میں ایک انتہائی خطرناک اور بے مثال اضافہ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مغربی کنارے پر اسرائیل کا قبضہ ناممکن ہے، صیہونی ریاست کی اندرونی تباہی کا وقت آ چکا، جنرل قاآنی
عرب لیگ کے مطابق یہ عمل عالمی انسانی حقوق کے قوانین، بالخصوص چوتھے جنیوا کنونشن اور شہری و سیاسی حقوق کے عالمی معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہے، جو مقبوضہ علاقوں میں سزائے موت دینے پر پابندی عائد کرتے ہیں اور قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کو روکتے ہیں۔
عرب لیگ نے کہا کہ مارچ 2026 میں پاس کیا جانے والا سزائے موت کا قانون اور اب سزائے موت دینے کے خصوصی مراکز کی تیاری، فلسطینیوں کے وجود کو ختم کرنے کی ایک باقاعدہ پالیسی کا حصہ ہے۔ اس پالیسی کا مقصد اسرائیلی جیلوں کو فلسطینیوں کے قتل گاہ میں تبدیل کرنا ہے جو کہ عالمی قوانین کا کھلا مذاق ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل کی پارلیمنٹ نے مارچ 2026 میں ایک قانون پاس کیا تھا، جس کے تحت سزائے موت کے دائرہ کار کو وسیع کیا گیا تھا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا غلط استعمال فلسطینیوں کے خلاف کیا جائے گا۔ اس وقت ہزاروں فلسطینی بلا جواز اور بغیر کسی مقدمے کے اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











