جمعرات، 20-اگست،2026
جمعرات 1448/03/07هـ (20-08-2026م)

افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں، جنہیں طالبان کی سرپرستی حاصل ہے: اقوام متحدہ

20 اگست, 2026 14:35

اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کے کوآرڈینیٹر نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں اور طالبان انہیں فعال حمایت، پناہ اور افغان شناختی دستاویزات فراہم کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کے کوآرڈینیٹر کولن اسمتھ نے افغانستان انٹرنیشنل کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں افغانستان سے جنم لینے والے دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات پر انتہائی اہم اور سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔

ان کے مطابق اس وقت افغانستان میں کم از کم 20 دہشت گرد گروہ پوری طرح سرگرم ہیں، اور افغان طالبان ان متعدد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ گہرے تعلقات قائم کیے ہوئے ہیں۔

کولن اسمتھ نے انکشاف کیا کہ طالبان کی جانب سے مختلف غیر ملکی اور مقامی دہشت گردوں کو افغان شناختی دستاویزات تک فراہم کی جا رہی ہیں، اور طالبان انٹیلی جنس ان تمام گروہوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے متعدد ارکان نے طالبان کی اس کھلی حمایت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : طالبان کی خواتین پر پابندیاں افغان معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہورہی ہیں، عالمی رپورٹ

انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی کو طالبان کا مکمل اور فعال تعاون حاصل ہے، جس کے نتیجے میں افغانستان سے پاکستان کے اندر سرحد پار حملوں میں 32 فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ٹی ٹی پی کے یہ بڑھتے ہوئے حملے پاکستان کے علاوہ پورے خطے اور ایشیا کے لیے شدید خطرہ بن چکے ہیں۔

انٹرویو میں القاعدہ کی موجودگی پر بات کرتے ہوئے کولن اسمتھ نے بتایا کہ القاعدہ اب بھی افغانستان میں مضبوطی سے موجود ہے۔ القاعدہ نے پاکستان کے ساتھ حالیہ تنازع میں طالبان کا سائیڈ لیا اور ٹی ٹی پی کی پاکستان مخالف تمام سرگرمیوں کی کھلی حمایت کی۔

اقوام متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق القاعدہ کے تجربہ کار تربیت کار ٹی ٹی پی کی جنگی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے انہیں باقاعدہ تربیت بھی دے رہے ہیں۔ القاعدہ اور ٹی ٹی پی کا یہ خوفناک اتحاد عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

اسی کے ساتھ کولن اسمتھ نے داعش خراسان کو افغانستان کا سب سے زیادہ فعال اور خطرناک دہشت گرد گروہ قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں اس وقت داعش خراسان کے تقریباً 2 ہزار دہشت گرد موجود ہیں، جن کی افغانستان کی سرزمیں سے عالمی سطح پر بڑے حملے کرنے کی صلاحیت پوری طرح برقرار ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ داعش خراسان نے کرپٹو کرنسی کے ذریعے ایک وسیع عالمی فنڈنگ نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے، اور یہ گروہ ایران، ماسکو اور متعدد یورپی ممالک میں خوفناک حملے کر چکا ہے، جو کہ عالمی اور علاقائی امن کے لیے مسلسل ایک بہت بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔