جمعرات، 20-اگست،2026
جمعرات 1448/03/07هـ (20-08-2026م)

طالبان کی خواتین پر پابندیاں افغان معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہورہی ہیں، عالمی رپورٹ

20 اگست, 2026 14:01

عالمی لیبر تنظیم کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے خواتین کی تعلیم اور روزگار پر لگائی گئی پابندیوں نے افغان معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔

افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے خواتین پر لگائی گئی غیر قانونی پابندیوں کے منفی معاشی اثرات اب شدید ترین صورت میں سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ خواتین کو تعلیم، نوکریوں اور سماجی سرگرمیوں سے مکمل الگ کرنے کے باعث افغان معیشت مکمل تباہی کا شکار ہو چکی ہے۔

عالمی لیبر تنظیم (آئی ایل او) نے افغانستان کی زوال پذیر معاشی صورتحال پر ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جب سے طالبان نے اقتدار پر قبضہ کیا ہے افغان معیشت شدید سکڑاؤ کا شکار ہوئی ہے اور محنت کشوں کی مارکیٹ کو انتہائی سنگین ترین مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : فرانس کا طالبان کے 5 سال مکمل ہونے پر افغانستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار

رپورٹ میں دیئے گئے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ طالبان کے دور میں افغانستان کی کل افرادی قوت میں خواتین کا حصہ 16.5 فیصد سے گھٹ کر صرف 5 فیصد رہ گیا ہے۔

اس وقت افغانستان دنیا کا وہ دوسرا ملک بن چکا ہے، جہاں لیبر فورس میں خواتین کی شمولیت کی شرح سب سے کم ہے۔ خواتین پر پابندیوں نے مردوں اور عورتوں کے درمیان روزگار کا فاصلہ بے پناہ بڑھا دیا ہے۔

آئی ایل او کے مطابق افغانستان میں روزگار اور کل آبادی کا تناسب جو سال 2020 میں 36.7 فیصد تھا، وہ اب 2026 میں کم ہو کر صرف 32.5 فیصد رہ گیا ہے۔

اس کے علاوہ تعلیم، روزگار اور کسی بھی قسم کی تربیت سے محروم افغان خواتین کی شرح 2020 کے 76 فیصد سے بڑھ کر 2026 میں 84 فیصد کی خطرناک سطح تک پہنچ چکی ہے۔

عالمی ادارے کے ان اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ طالبان حکومت کے آمرانہ فیصلوں اور سخت پابندیوں نے پہلے سے کمزور افغان معیشت کو تباہی کے آخری دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔