جماعت اسلامی کا 12 ربیع الاول کے ایک ہفتے بعد ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا اعلان

امیر جماعت اسلامی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور مہنگائی پر سخت تنقید کرتے ہوئے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کردیا۔
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک میں جاری مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں عوام کو صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں اور اگر غیر سرکاری تنظیمیں کام نہ کریں تو پورا حکومتی نظام بلکل بیٹھ جائے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کے نام پر عوام سے پیٹرول کی ہر لیٹر فروخت پر 80 سے 90 روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔ حکومت اب تک غریب عوام سے 8 ہزار ارب روپے سے زیادہ رقم جمع کر چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خیر النساء بلوچ بلوچستان کی پہلی خاتون کرکٹ کوچ بن گئیں
انہوں نے کہا کہ یہ لیوی ریفائنریوں کو اپ گریڈ کرنے کے نام پر عائد کی گئی تھی تاکہ خام تیل درآمد کیا جا سکے، لیکن اپ گریڈیشن پر 100 ارب روپے بھی خرچ نہیں ہوئے، جو بدترین بدعنوانی کو ظاہر کرتا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ سرکاری اسپتالوں میں ادویات اور ٹیسٹ کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے عام آدمی کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ اگر ایف بی آر اپنا ہدف پورا نہ کر سکے تو اس کا سارا بوجھ عام شہری پر ڈال دیا جاتا ہے۔
انہوں نے اشرافیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایلیٹ کلاس کے پاس تمام سہولیات موجود ہیں جبکہ غریب کے لیے بنیادی حقوق بھی ختم ہو چکے ہیں۔
انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ ڈیزل کی قیمت میں 30 روپے نہیں بلکہ 130 روپے کمی کی جائے اور پیٹرولیم لیوی کو ختم کیا جائے۔
حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے اور احتجاجی کیمپ ملک بھر میں جاری رہیں گے۔ 12 ربیع الاول کو دھرنوں میں سیرت کانفرنسز اور محافل نعت منعقد کی جائیں گی، جبکہ 12 ربیع اول کے ایک ہفتے بعد پورے ملک میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ سالانہ 9 ہزار ارب روپے صرف سود میں جا رہے ہیں اور ملکی قرضہ 98 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












