جمعرات، 20-اگست،2026
جمعرات 1448/03/07هـ (20-08-2026م)

وفاقی وزیر صحت کی سرجری سے پہلے ایچ آئی وی اسکریننگ لازمی کرنے کی ہدایت

20 اگست, 2026 16:34

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ملک بھر میں سرجری سے پہلے ایچ آئی وی اسکریننگ لازمی کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ملک بھر میں ایسے تمام جراحی اور طبی طریقہ کار سے پہلے ایچ آئی وی اسکریننگ لازمی کرنے کی ہدایت کردی ہے جن میں جلد پر چیرا لگایا جاتا ہے یا جسم میں سوئی داخل کی جاتی ہے۔ اس اقدام کا مقصد علاج کے دوران ایچ آئی وی وائرس کی منتقلی کے خطرے کو کم کرنا اور مریضوں کے لیے یکساں حفاظتی معیار یقینی بنانا ہے۔

یہ ہدایات وفاقی وزیر صحت نے وزارت قومی صحت میں ایچ آئی وی اور ایڈز سے متعلق جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ اجلاس میں ملک میں ایچ آئی وی سے بچاؤ، طبی طریقہ کار کے دوران حفاظتی اقدامات اور انفیکشن کنٹرول سے متعلق مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جراحی یا ایسے طبی طریقہ کار سے قبل ایچ آئی وی اسکریننگ کے نظام کو مؤثر بنایا جائے۔ طبی مراکز میں مریضوں کی حفاظت کے لیے انفیکشن سے بچاؤ کے واضح اصول ہونے چاہئیں اور ان پر سختی سے عمل بھی کیا جانا چاہیے۔

مصطفیٰ کمال نے بلوچستان، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے محکمہ صحت کے حکام کو بھی ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ ان صوبوں اور علاقوں میں ایسے طبی طریقہ کار سے پہلے ایچ آئی وی اسکریننگ لازمی بنانے کے لیے متعلقہ نوٹیفکیشن جاری کرنے اور پالیسی پر عملدرآمد یقینی بنانے کا کہا گیا ہے۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ، پنجاب اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں ایسے جراحی طریقہ کار سے قبل ایچ آئی وی اسکریننگ کا نظام پہلے ہی متعارف کروایا جاچکا ہے۔ ان طریقہ کار میں وہ طبی عمل بھی شامل ہیں جن میں جلد میں سوراخ کیا جاتا ہے یا چیرا لگایا جاتا ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے ملک کے مختلف علاقوں میں الگ الگ طریقہ کار اختیار کرنے کے بجائے ایک مشترکہ اور یکساں پالیسی بنانے پر زور دیا۔ ایچ آئی وی سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات پورے ملک میں ایک ہی معیار کے تحت ہونے چاہئیں تاکہ کسی بھی علاقے میں مریضوں کو مختلف سطح کی سہولت یا تحفظ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اجلاس میں ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے بچوں کی صورتحال پر بھی بات ہوئی۔ مصطفیٰ کمال نے ایسے بچوں کی دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی۔ ان بچوں کی ضروریات صرف ادویات اور طبی علاج تک محدود نہیں ہیں۔

وفاقی وزیر کے مطابق ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کو بہتر علاج کے ساتھ مناسب غذائیت، نفسیاتی مدد اور سماجی معاونت بھی فراہم کی جانی چاہیے۔ ان سہولتوں سے بچوں کی صحت اور زندگی کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے بچوں کے لیے فلاحی اور معاون سہولتوں کو بھی پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔ اس سلسلے میں طبی اداروں اور متعلقہ محکموں کے درمیان بہتر رابطے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ آئندہ اجلاس میں صوبائی ہیلتھ کیئر کمیشنز کے نمائندوں کو مدعو کیا جائے گا۔ اس کا مقصد طبی مراکز میں انفیکشن کنٹرول کے موجودہ اقدامات کا تفصیلی جائزہ لینا اور ان میں موجود خامیوں کو دور کرنا ہے۔

Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔