کیا ڈونلڈ ٹرمپ ایران کیخلاف طویل معاشی جنگ برداشت کر پائیں گے؟

عالمی تجزیہ کاروں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کی معیشت تباہ کرنے کے نئے عزم کو امریکی پالیسی کا عارضی دفاع اور طویل المدتی حکمت عملی کی کمی قرار دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک اور جنگی معاشی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر سخت انتباہ جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے ایران کے خلاف تاریخ کے سب سے کٹھن معاشی محاصرے کا وعدہ کیا ہے۔
تاہم دنیا بھر کے سیاسی اور معاشی تجزیہ کار اس بات پر تحفظات ظاہر کر رہے ہیں کہ آیا ٹرمپ سیاسی اور معاشی قیمت بڑھنے پر اس فیصلے پر قائم رہ سکیں گے یا پہلے کی طرح پیچھے ہٹ جائیں گے۔
ملٹری حملوں کے ذریعے تہران کو سرنڈر کرنے یا جوہری بات چیت پر مجبور کرنے میں ناکامی کے بعد، اس نئے معاشی منصوبے کو ٹرمپ کی سیاسی حکمت عملی کا ایک دفاعی رخ دیکھا جا رہا ہے۔
سی این این اور اسرائیلی انٹیلی جنس کے سابق حکام کا تجزیہ ہے کہ تہران میں انقلابی حکومت کئی دہائیوں کی سخت پابندیاں جھیل چکی ہے، اسی لیے محض معاشی دباؤ سے اس کی پالیسی تبدیل ہونے کی امید رکھنا غلط فہمی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی دھمکیوں کے باوجود چین ایرانی تیل کی خریداری بند نہیں کرے گا، ماہرین
اسرائیل ڈیفنس انٹیلی جنس کے سابق اہلکار ڈینیئل سٹرینووچ نے اس حوالے سے بتایا کہ ایران معاشی دباؤ میں شدید مشکلات کا شکار تو ہو سکتا ہے، لیکن امریکی دباؤ کے سامنے اپنا نظریہ اور حکمت عملی نہیں بدلے گا۔
اس کے علاوہ ایران کی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے کئی سال کا وقت درکار ہوگا، جبکہ صدر ٹرمپ میں اس قسم کے صبر اور تدبر کا شدید فقدان دیکھا گیا ہے۔
معاشی اور سفارتی تجزیے کے مطابق اگر ٹرمپ ایران کا تیل خریدنے والے چین کے بینکوں پر پابندیاں لگاتے ہیں، تو اس سے چین کے صدر شی جن پنگ کے ستمبر میں ہونے والے طے شدہ دورہ امریکہ کے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایران کے پاس بھی جوابی وار کے لیے بہترین سیاسی موقع موجود ہے، کیونکہ امریکہ میں 2 ماہ بعد وسط مدتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔
اگر ایران آبنائے ہرمز میں ٹینکرز پر ڈرون یا میزائل حملے کرتا ہے تو اس سے امریکہ میں پیٹرول اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں یکدم بڑھ جائیں گی، جس کا براہ راست سیاسی نقصان ٹرمپ اور ان کی پارٹی کو انتخابی میدان میں بھگتنا پڑے گا۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












