جمعرات، 27-اگست،2026
جمعرات 1448/03/14هـ (27-08-2026م)

ایران کے خلاف نئی امریکی پابندیاں، سخت ترین دباؤ کی پرانی اور ناکام پالیسی کا اعادہ

27 اگست, 2026 11:21

ایران کے خلاف امریکی آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کے تحت نئی پابندیاں واشنگٹن کی دہائیوں پر محیط ناکام معاشی پالیسی کا تسلسل ہیں، جس کا اثر خود امریکی معیشت پر پڑ رہا ہے۔

ایرانی خبررساں ادارے پریس ٹی وی کے تجزیئے کے مطابق امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کے تحت نئی اقتصادی پابندیوں کا اعلان دراصل واشنگٹن کی دہائیوں پر محیط ناکام معاشی جنگ کی حکمت عملی کی ایک اور قسط ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے ایران کی آمدنی کے تمام ذرائع بند کرنے اور صفر رساؤ کی پالیسی کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، تاہم گزشتہ چار دہائیوں کی تاریخ اور حقائق ثابت کرتے ہیں کہ یہ نئی کوشش بھی سابقہ تمام مہمات کی طرح مکمل ناکامی پر ہی ختم ہوگی۔

امریکہ کا یہ نیا اقدام سخت ترین دباؤ کی اسی پرانی اور ناکام پالیسی کا نیا روپ ہے، جسے واشنگٹن بار بار استعمال کر چکا ہے۔

1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے امریکی انتظامیہ نے ہمیشہ ایران کی حکومت کو گرانے یا اسے اپنے آگے جھکانے کے لیے سخت ترین اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں۔

2012 میں اوباما انتظامیہ نے ایران پر تاریخ کی سب سے سخت پابندیاں لگائیں لیکن وہ ناکام رہیں۔ 2018 میں ٹرمپ نے ایٹمی معاہدے سے یکطرفہ نکل کر شدید ترین دباؤ کی مہم چلائی جو بے نتیجہ رہی، اور بعد میں بائیڈن نے بھی اسی ناکام راستے کو اپنایا۔

اب ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے دوسرے دور میں مزید سخت اقدامات کا دعویٰ کیا ہے، لیکن ہر بار کی طرح ایران نے نہ صرف ان پابندیوں کا مقابلہ کیا ہے بلکہ اپنی معیشت کو زیادہ مضبوط اور متنوع بنا لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ کا ایرانی ایٹمی مراکز کے معائنے کا مطالبہ محض نقصان کا اندازہ لگانے کی کوشش ہے، ایران

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی پالیسی کی سب سے بڑی بنیادی خرابی اس کی ساکھ کا ختم ہو جانا ہے۔ امریکہ نے ایران کی جانب سے تمام معاہدوں کی پاسداری کے باوجود 2018 میں عالمی ایٹمی معاہدے کو ختم کیا اور بعد میں سفارتکاری کے دوران ایران پر دو مسلح جنگیں مسلط کیں۔

سفارتی کوششوں کے درمیان جنگ مسلط کرنے کے ان اقدامات نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ کی دھمکیوں اور پابندیوں میں کوئی اثر نہیں رہا۔

ایران کے خلاف حالیہ امریکی ملٹری کارروائی نے بھی امریکی عزائم کو پورا کرنے کے بجائے واشنگٹن کی فوجی حدود کو واضح کر دیا ہے۔ ملٹری اپشن کی ناکامی کے بعد اب دوبارہ اقتصادی پابندیوں کا سہارا لینا واشنگٹن کی تزویراتی شکست کا اعتراف ہے۔

امریکی پابندیوں کی وجہ سے اب خود امریکہ اور عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ نئی پابندیوں کے اعلان کے ساتھ ہی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے اور امریکہ میں پیٹرول کی قیمتوں میں 29 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے امریکی عوام مہنگائی کے شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

اگر ہرمز کی آبنائے بند رہتی ہے تو امریکہ میں مہنگائی کا نیا طوفان آ سکتا ہے۔ یوں ایران پر لگائی جانے والی پابندیاں اب خود امریکی عوام اور عالمی معیشت کے لیے سزا بن چکی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ عالمی منظرنامہ اب تبدیل ہو چکا ہے۔ چین اور روس نے ایران کے ساتھ اپنے معاشی اور تزویراتی تعلقات کو بے حد مضبوط کر لیا ہے، جس سے ایران کو متبادل منڈیاں مل گئی ہیں۔

اب دنیا میں امریکہ کا یکطرفہ معاشی دبدبہ ختم ہو چکا ہے اور متعدد ممالک امریکی پابندیوں کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

ایران نے اپنی معیشت کو صرف تیل کی برآمدات پر انحصار سے نکال کر مقامی پیداوار کی طرف موڑ دیا ہے، جس سے پابندیوں کا اثر کم سے کم ہو گیا ہے۔

اس تنازع کا واحد اور پائیدار حل صرف سفارتکاری میں مضمر ہے۔ رمضان المبارک کی 4 روزہ جنگ کے بعد طے پانے والے معاہدے کے مطابق امریکہ کو ایران پر عائد تمام بنیادی اور ثانوی پابندیاں ختم کرنا ہوں گی۔

جب تک ایران کے تمام جائز مطالبات پورے نہیں ہوتے اور پابندیاں مکمل طور پر اٹھائی نہیں جاتیں، تب تک تہران اپنے مؤقف پر قائم رہے گا۔

واشنگٹن کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ وہ زور زبردستی یا ملٹری طاقت سے ایران کو سجدہ ریز نہیں کر سکتا، اور اسے خطے کی اس نئی علاقائی طاقت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر بات چیت کرنا ہوگی۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔