امریکی پابندیوں کے باوجود چین روزانہ 12 لاکھ بیرل ایرانی تیل خرید رہا ہے، امریکی رپورٹ

امریکی پابندیوں کے باوجود چین ایران سے روزانہ 12 لاکھ بیرل تیل خرید رہا ہے، واشنگٹن چینی بینکس پر کارروائی سے گریزاں ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کی معیشت کو مفلوج کرنے کے لیے نئی پابندیاں عائد کرنے کے باوجود چینی آئل ریفائنریز کی جانب سے ایرانی تیل کی درآمدات کا سلسلہ جاری ہے۔ رواں سال چین روزانہ تقریباً 12 لاکھ بیرل ایرانی تیل درآمد کر رہا ہے، جو گزشتہ سال کی سطح کے تقریباً برابر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل لے جانے والے جہازوں کی جانب سے سراغ لگانے والے نظام کو چکمہ دینے کی صلاحیت میں بہتری کے باعث اصل مقدار اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اعلان کیا ہے کہ انتظامیہ ایران کو ملنے والے ہر مالیاتی راستے کو بند کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان نئی پابندیوں میں 60 سے زائد بروکرز، کمپنیوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں ہانگ کانگ اور چین میں قائم درجن بھر سے زائد کمپنیاں شامل ہیں۔ تاہم اس فہرست میں چین کے کسی بھی بڑے بینک یا سرکاری مالیاتی ادارے کو شامل نہیں کیا گیا اور صرف چھوٹی چینی کمپنیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : فیلڈ مارشل کا دورہ ایران امریکی نمائندے کے طور پر نہیں تھا، ترجمان دفتر خارجہ
واشنگٹن کی جانب سے چینی بینکس کو فہرست سے باہر رکھنے پر امریکی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ خاموش سفارت کاری زیادہ مؤثر حکمت عملی ہے۔
تاہم امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے ہمیشہ چین سے براہ راست تصادم سے گریز کیا ہے کیونکہ چین کے پاس امریکا کے مقابلے میں زیادہ مظبوط مؤقف موجود ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ کی اگلے ماہ امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے اور چین کی جانب سے نادر زمین کی معدنیات کی برآمدات پر لگائی گئی ایک سالہ پابندی کی مدت بھی جلد ختم ہو رہی ہے، جسے چین دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔
چین کی تین بڑی سرکاری آئل کمپنیوں نے مغربی بینکس سے تعلقات کے باعث ایرانی تیل سے دوریاں اختیار کر رکھی ہیں، تاہم چھوٹی نجی ریفائنریز رعایت پر ملنے والا ایرانی تیل خرید رہی ہیں۔
ان خریداریوں کی ادائیگی امریکی ڈالر کے بجائے چینی کرنسی یا ڈیجیٹل کرنسی میں کی جاتی ہے، جس کے باعث یہ لین دین امریکی پابندیوں کی زد میں نہیں آتا۔
تیل کی یہ ترسیل اکثر ملائیشیا کے قریب سمندری حدود کے ذریعے کی جاتی ہے، جہاں ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں تیل منتقل کیا جاتا ہے۔
امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ایرانی تیل خریدنے والے چینی بینکس پر کارروائی کرکے اپنے معاشی استحکام کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا، کیونکہ اتنے بڑے بینکس پر پابندیوں سے عالمی مارکیٹس اور سپلائی چین شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











