جمعہ، 28-اگست،2026
جمعہ 1448/03/15هـ (28-08-2026م)

آئی ایم ایف کا گیس قیمتوں میں کمی پر حکومتی اختیار محدود کرنے کا مطالبہ، گردشی قرضہ بڑھنے کا خدشہ

28 اگست, 2026 13:15

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں گیس کے نرخوں میں حکومتی سطح پر کمی کرنے کے اختیار کو محدود کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ صارفین کے لیے ٹیرف کم کرنے سے گیس کے شعبے کا گردشی قرضہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق حالیہ اجلاس میں کابینہ کمیٹی برائے توانائی (سی سی او ای) کو بتایا گیا کہ آئی ایم ایف نے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (EFF) اور اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (SBA) کے جائزوں کے دوران گیس کے شعبے میں بڑھتے ہوئے ٹیرف ڈیفرینشل کا نوٹس لیا ہے، جو گردشی قرضے میں اضافے کی ایک اہم وجہ بن رہا ہے۔

آئی ایم ایف نے اوگرا آرڈیننس 2002 میں مزید ترامیم کا مطالبہ کیا ہے تاکہ حکومت کو آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے مقرر کردہ نرخوں سے کم گیس ٹیرف مقرر کرنے سے روکا جاسکے۔

ذرائع کے مطابق حکومت سے یہ عہد بھی لیا گیا ہے کہ اوگرا کی جانب سے گیس کی قیمتوں کا تعین کیے جانے کے بعد صارفین کے لیے نرخ مقررہ مدت کے اندر نظرثانی کیے جائیں گے اور اس حوالے سے عمل درآمد کی رپورٹ آئی ایم ایف کو فراہم کی جائے گی۔

آئی ایم ایف کے مطالبے کے تحت اوگرا آرڈیننس 2002 میں مارچ 2022 میں قانون سازی کے ذریعے ترمیم بھی کی گئی تھی۔ اس کے بعد اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اوگرا کے مقرر کردہ فارمولے کے مطابق گیس کے نرخوں میں بروقت ردوبدل کیا جائے تاکہ شعبے کے گردشی قرضے میں مزید اضافہ نہ ہو۔

بجلی کے شعبے کے برعکس، جہاں ٹیرف ڈیفرینشل کو پورا کرنے کے لیے حکومت بجٹ میں سبسڈی مختص کرتی ہے، گیس کے شعبے میں کم آمدنی والے گھریلو صارفین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کراس سبسڈی کا نظام رائج ہے۔

اس نظام کے تحت صنعتی اور تجارتی صارفین سمیت بعض شعبوں کے لیے گیس کے نرخ نسبتاً زیادہ رکھے جاتے ہیں تاکہ گیس تقسیم کار کمپنیوں کی آمدنی کی ضروریات پوری کی جاسکیں۔

پاکستان کے گیس سپلائی نظام میں بنیادی طور پر دو اہم اجزا شامل ہیں، جن میں گیس کی پیداواری لاگت یا ویل ہیڈ قیمت اور صارفین کے لیے مقرر کردہ ٹیرف شامل ہیں۔

اوگرا آرڈیننس 2002 اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کے مطابق صارفین کے ٹیرف کے تعین کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے۔

موجودہ طریقہ کار کے تحت اوگرا ہر چھ ماہ بعد متعلقہ پٹرولیم پالیسی کے مطابق ویل ہیڈ گیس کی قیمت اور سوئی گیس کمپنیوں کی آمدنی کی ضروریات کا تعین کرتا ہے۔ اس کے بعد سوئی کمپنیوں کی آمدنی کی ضروریات سے متعلق فیصلہ وفاقی حکومت کو بھجوایا جاتا ہے، جسے 40 روز کے اندر گیس کی قیمتوں کے نوٹیفکیشن کے لیے ایڈوائس جاری کرنا ہوتی ہے۔

مالی سال 2013 تک اوگرا کے فیصلوں کے مطابق صارفین کے گیس نرخوں میں نظرثانی کا عمل باقاعدگی سے جاری رہا، تاہم اس کے بعد یہ طریقہ کار عملاً متاثر ہوا اور سالانہ بجٹ میں ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی کے لیے بھی خاطر خواہ رقم مختص نہیں کی گئی۔

مالی سال 2018-19 سے آر ایل این جی کو گھریلو شعبے میں منتقل کیے جانے کے بعد بھی ٹیرف ڈیفرینشل کا مسئلہ مزید نمایاں ہوا۔ حکومت نے موسم سرما میں گھریلو طلب پوری کرنے کے لیے آر ایل این جی منتقل کی، تاہم اس کی اصل لاگت کی وصولی کے لیے مؤثر طریقہ کار نہ ہونے کے باعث مالی دباؤ بڑھتا گیا۔

ای ایف ایف اور ایس بی اے کے تحت حکومت نے گیس کے گردشی قرضے سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔ ان میں گردشی قرضے کی واضح تعریف وضع کرنا، اس کے حجم کے مستند اعدادوشمار مرتب کرنا، ماہانہ بنیادوں پر قرضے میں اضافے کی رپورٹنگ کا نظام قائم کرنا اور گردشی قرضے کے انتظام کا باقاعدہ منصوبہ تیار کرنا شامل ہے۔

گردشی قرضہ مینجمنٹ پلان میں اوگرا کے مقرر کردہ فارمولوں کے مطابق صارفین کے گیس نرخوں میں باقاعدگی سے ایڈجسٹمنٹ، گیس کے غیر اعلانیہ نقصانات (UFG) میں کمی اور دیگر اخراجات کم کرنے کے لیے اصلاحات شامل ہوں گی۔

پاکستان میں قدرتی گیس کی پیداوار کا بڑا حصہ سرکاری ملکیتی ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیوں، جن میں او جی ڈی سی ایل، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ اور گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ شامل ہیں، سے حاصل ہوتا ہے۔ حکومت کو ملک میں پیدا ہونے والی قدرتی گیس کی خریداری کا اولین حق حاصل ہے جبکہ سوئی گیس تقسیم کار کمپنیوں کو نامزد خریدار مقرر کیا گیا ہے۔

بعد ازاں گیس سوئی تقسیم کار کمپنیوں کے ذریعے یا براہ راست بجلی گھروں اور کھاد کے کارخانوں سمیت مختلف شعبوں کو فراہم کی جاتی ہے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز کی توقع سے کم وصولیوں اور بجلی کے شعبے سے متعلق مسائل کے باعث گیس کے شعبے کا گردشی قرضہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

گیس کے شعبے میں بڑھتے ہوئے گردشی قرضے کا اثر ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیوں کی مالی استعداد پر بھی پڑ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر وصولیوں کے مسائل اور شعبے کے مالی عدم توازن کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو متعلقہ کمپنیوں کو مالی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں مستقبل میں قومی خزانے پر مزید بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔