ہفتہ، 29-اگست،2026
ہفتہ 1448/03/16هـ (29-08-2026م)

شائننگ انڈیا کے جھوٹے دعوے بے نقاب، لاکھوں بھارتی بچے جبری مشقت کی اذیت سہنے پر مجبور

29 اگست, 2026 11:16

بھارت میں بچوں سے مشقت کا مسئلہ بدستور ایک سنگین سماجی چیلنج بنا ہوا ہے، جہاں معاشی مشکلات اور محدود مواقع کے باعث بڑی تعداد میں بچے کم عمری میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔

جاپان کے قومی نشریاتی ادارے این ایچ کے کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں 14 سال سے کم عمر بچوں کے روزگار پر پابندی عائد کیے جانے کے باوجود لاکھوں بچے اب بھی مختلف صنعتوں میں کام کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں ایک دہائی قبل کم عمر بچوں سے ملازمت کرانے پر پابندی عائد کی گئی تھی، تاہم اس کے باوجود تقریباً 50 لاکھ بچے صنعتوں میں کام کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال قوانین پر مؤثر عملدرآمد اور بچوں کے تحفظ کے نظام کے حوالے سے سوالات اٹھاتی ہے۔

جاپانی میڈیا کے مطابق ماضی میں خود جبری مشقت کا سامنا کرنے والے کھیملال کھیترجی نے بعد میں ایک تعلیمی غیر سرکاری تنظیم قائم کی، جس کے ذریعے 300 سے زائد بچوں کو مشقت سے نکال کر تعلیم کے مواقع فراہم کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق بھارت میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کی کوششوں کو اب بھی متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔ غربت، تعلیم تک محدود رسائی اور کم آمدنی والے خاندانوں کے معاشی مسائل بچوں کو کم عمری میں کام کی طرف دھکیلنے والی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق بچوں سے مشقت کا تسلسل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قانونی اقدامات کے ساتھ ساتھ غربت کے خاتمے، سماجی تحفظ، معیاری تعلیم اور خاندانوں کے لیے معاشی مواقع پیدا کرنے پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔

بھارت میں لاکھوں بچوں کا کم عمری میں مزدوری کرنا ملک کی معاشی اور سماجی ترقی کے دعووں کے ساتھ ایک اہم سوال ضرور اٹھاتا ہے۔ بچوں کو جبری یا کم عمری کی مشقت سے نکال کر تعلیم اور محفوظ ماحول فراہم کرنا کسی بھی معاشرے کی پائیدار ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔