امریکہ میں آر ایس ایس مخالف احتجاج، دنیا بھرمیں انتہاپسند بی جے پی کے اقلیت مخالف ایجنڈے کا پردہ چاک

امریکہ کے شہر نیویارک میں بھارتی ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کی متوقع تقریب کے خلاف احتجاج اور سیاسی مخالفت سامنے آئی ہے۔ انسانی حقوق اور بین المذاہب تنظیموں نے آر ایس ایس کے نظریات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔
نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے بھی موہن بھاگوت کی تقریب کی حمایت سے انکار کرتے ہوئے آر ایس ایس کی نظریاتی سوچ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ممدانی کے مطابق وہ ایسی سوچ کی حمایت نہیں کرسکتے جو معاشرے میں تقسیم پیدا کرے اور مذہبی و سماجی تکثیریت کے اصولوں سے متصادم ہو۔
موہن بھاگوت 29 اگست کو نیویارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں منعقد ہونے والی ’یونیورسل اوننس سیلیبریشن‘ سے خطاب کرنے والے ہیں۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ تقریب کا مقصد بھارتی نژاد امریکی برادری کو ثقافتی اور سماجی روابط کے لیے اکٹھا کرنا ہے، جبکہ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس تقریب سے آر ایس ایس کو امریکی سطح پر مزید پذیرائی مل سکتی ہے۔
آر ایس ایس کو بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے قریبی نظریاتی تعلق رکھنے والی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ تنظیم کے ناقدین کا الزام ہے کہ ہندوتوا پر مبنی سیاست نے بھارت میں مذہبی اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر اقلیتی برادریوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ آر ایس ایس ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خود کو ہندو سماج کی ثقافتی اور سماجی تنظیم قرار دیتی ہے۔
نیویارک میں انسانی حقوق اور بین المذاہب تنظیموں نے احتجاج کے ذریعے اپنے تحفظات سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ’ہندوز فار ہیومن رائٹس‘ نے بھی ایک احتجاجی پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے شہریوں سے شرکت کی اپیل کی ہے۔
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی سے وابستہ حکام اور بعض انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے بھی آر ایس ایس کی سرگرمیوں اور بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ بعض حلقوں نے موہن بھاگوت کے ویزے پر نظرثانی اور آر ایس ایس سے متعلق ممکنہ پابندیوں کی تجاویز بھی پیش کی ہیں۔
یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بھارت کی ہندو قوم پرست سیاست اور آر ایس ایس کا کردار اب صرف بھارت تک محدود بحث نہیں رہا بلکہ بیرون ملک بھارتی برادری اور انسانی حقوق کے حلقوں میں بھی اس پر اختلاف اور بحث جاری ہے۔ نیویارک میں ہونے والے احتجاج نے مذہبی آزادی، اقلیتوں کے حقوق اور سیاسی نظریات کے عالمی اثرات سے متعلق بحث کو مزید نمایاں کردیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












