پیر، 31-اگست،2026
پیر 1448/03/18هـ (31-08-2026م)

بھارت میں تعلیمی بدانتظامی کے خلاف طلبا سڑکوں پر آگئے، مودی حکومت پر شدید تنقید

31 اگست, 2026 10:49

بھارت کی ریاست بہار میں سول سروسز کے امتحانی تنازع اور بھرتیوں میں بےضابطگیوں کے خلاف طلبا کا احتجاج شدت اختیار کر گیا، جبکہ مودی حکومت تحریک کو دبانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

بھارت میں تعلیمی بدانتظامی، پیپر لیکس اسکینڈلز اور بھرتیوں میں بےضابطگیوں کے خلاف طلبا کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔

ریاست بہار میں بہار پبلک سروس کمیشن (بی پی ایس سی) کے امتحانی تنازع پر ہزاروں سول سروسز کے امیدوار مودی حکومت کی ناکام پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

مودی سرکار نوجوانوں کے جائز مطالبات تسلیم کرنے کے بجائے احتجاج کو طاقت کے زور پر دبانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ بھارتی شہریوں کا کہنا ہے کہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے طلبا پر پولیس کا تشدد، زبردستی گرفتاری اور لاٹھی چارج روز کا معمول بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : شائننگ انڈیا کے جھوٹے دعوے بے نقاب، لاکھوں بھارتی بچے جبری مشقت کی اذیت سہنے پر مجبور

بھارتی جریدے دکن ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مودی حکومت اپنی جواب دہی سے بچنے کے لیے پولیس کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ محض پولیس کی کارروائی نہیں بلکہ بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کے طرزِ حکمرانی اور اس کی ذہنیت پر ایک سنگین سوال ہے۔

طلبا طویل عرصے سے شفافیت کے فقدان اور امتحانی پرچوں کے افشا ہونے کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں، لیکن حکومت واٹر کینن اور تشدد سے کام لے رہی ہے۔

احتجاجی رہنما امان کمار نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ تعلیمی نظام کی بدحالی اور پیپر لیک اسکینڈلز کے خلاف شروع ہونے والی یہ تحریک اب رکنے والی نہیں ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ یہ احتجاج اور نوجوانوں کی تحریک وفاقی وزیرِ تعلیم کے استعفے تک ہر صورت جاری رہے گی۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔