آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی جنگ، امریکہ اور ایران کا پیچھے ہٹنے سے انکار، دونوں ممالک کی معیشت پر شدید دباؤ

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ماہ کے وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہونے والی فوجی جھڑپوں نے آبنائے ہرمز میں شدید کشیدگی پیدا کر دی ہے، جہاں دونوں ممالک کھلی جنگ سے بچتے ہوئے اپنے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان ستمبر کے پہلے ہفتے میں حملوں کا نیا سلسلہ شروع ہوا ہے، جس نے خطے کو دوبارہ ایک خطرناک ملٹری تعطل کی طرف دھکیل دیا ہے۔
امریکی فوج نے ایران پر دوبارہ فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں تہران نے اردن، بحرین اور کویت میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین اس وقت محدود پیمانے پر کارروائیاں کر رہے ہیں کیونکہ کوئی بھی مکمل جنگ کی طرف واپس نہیں جانا چاہتا۔
اس تنازع کا سب سے بڑا مرکز آبنائے ہرمز بن چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 40 تجارتی جہازوں کو سنبھالا دے کر ایک کروڑ 80 لاکھ بیرل تیل بحفاظت نقل و حمل کروایا ہے، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران چین کی علاقائی مشترکہ سیکیورٹی تجویز کا مکمل حامی ہے، باقر قالیباف
تاہم، امریکی عوام اس جنگ کے معاشی اثرات سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ امریکہ میں پیٹرول کی اوسط قیمت 4.14 ڈالر فی گیلن تک پہنچ چکی ہے جبکہ ہنگامی تیل کے ذخائر 1983 کے بعد سے اپنی کم ترین سطح پر آ گئے ہیں۔
اس کے علاوہ امریکی فوج نے اپنے اینٹی میزائل سسٹم کے 80 فیصد اور پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کے تقریباً آدھے ذخائر استعمال کر لیے ہیں، جس سے امریکی محکمہ دفاع میں تشویش پائی جاتی ہے۔ حالیہ سروے کے مطابق 68 فیصد امریکی شہری ٹرمپ کی اس جنگی پالیسی کے خلاف ہیں۔
دوسری جانب، ایران کی صورتحال بھی انتہائی نازک ہو چکی ہے۔ امریکی معاشی ناکہ بندی کے باعث ایران میں سالانہ افراط زر 66 فیصد تک جا پہنچا ہے اور غریب طبقے کے لیے بنیادی اشیائے خورونوش کا حصول مشکل ہو گیا ہے۔
اس کے باوجود، ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ جون میں طے پانے والے سمجھوتے پر واپس آئے تو ایران فوری طور پر راستے کھول دے گا۔ لیکن تہران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ امریکہ کے سامنے سرینڈر نہیں کرے گا۔
ماہرین کے مطابق امریکہ جہاں اس جنگ کو معاشی دائرے تک محدود رکھنا چاہتا ہے، وہیں ایران اس معاشی جمود کو توڑنے کے لیے سمندری راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کر کے دباؤ بڑھا رہا ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












