میئر کراچی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کے لیے پی ٹی آئی اور جماعتِ اسلامی کے درمیان رابطہ

پی ٹی آئی اور جماعتِ اسلامی کے درمیان میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے کے لیے اہم مشاورت ہوئی ہے۔
نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کی تشکیل کے حامی وزرا اور مقتدر حلقوں نے پاکستان پیپلز پارٹی پر سیاسی دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسی تناظر میں پاکستان تحریکِ انصاف کے سٹی کونسل ارکان نے ادارہ نورِ حق میں جماعتِ اسلامی کی مقامی قیادت سے ایک اہم ملاقات کی ہے، جس میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان میئر کراچی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کے لیے دیگر سیاسی فریقین سے مشاورت پر اتفاق ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : بیرسٹر گوہر کا علامہ راجہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرانے کا مطالبہ
اس سے قبل ستمبر 2025 میں بھی پی ٹی آئی جماعتِ اسلامی کے ساتھ مل کر مرتضیٰ وہاب کے خلاف تحریک لانا چاہتی تھی لیکن اس وقت جماعتِ اسلامی نے مختصر عرصے کے لیے اپنا میئر بنانے سے معذرت کر لی تھی۔
تاہم ملک میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کی بحث کے بعد اب سیاسی صورتحال تبدیل ہو چکی ہے اور مقتدر حلقے کراچی کے بعد حیدرآباد اور میرپور خاص کے میئرز کی تبدیلی بھی چاہتے ہیں۔
بلدیہ عظمیٰ کراچی کی سٹی کونسل میں کل 367 نشستیں ہیں، جہاں عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 184 ووٹ درکار ہیں۔ کونسل میں جماعتِ اسلامی کے 128 ارکان ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے 61 ارکان میں سے مرتضیٰ وہاب کے انتخاب کے وقت 31 ارکان غیر حاضر رہے تھے اور 29 نے حافظ نعیم الرحمٰن کو ووٹ دیا تھا۔
اگر غیر حاضر ارکان اس بار ووٹ دیتے ہیں تو یہ تعداد 189 ہو جائے گی، جس کے بعد پیپلز پارٹی کے لیے اپنی اکثریت برقرار رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔
اس کے علاوہ مسلم لیگ ن کے 14، جے یو آئی کے 4 اور ٹی ایل پی کے 2 ارکان بھی تحریک کے حق میں بتائے جاتے ہیں، جبکہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت عدم اعتماد کے لیے کسی مخصوص تعداد کی شرط بھی موجود نہیں ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








