بدھ، 9-ستمبر،2026
منگل 1448/03/26هـ (08-09-2026م)

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے نیا عالمی نقشہ منظور، کشمیر متنازع علاقہ قرار، بھارت نے بھی حمایت کردی

08 ستمبر, 2026 12:25

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے نیا عالمی نقشہ منظور کر لیا، جس میں کشمیر کو متنازع علاقہ قرار دیا گیا ہے، بھارت نے بھی اس کے حق میں ووٹ دے دیا۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے نقشے درست کرو کے عنوان سے ایک اہم قرار داد منظور کر لی ہے، جس کے تحت عالمی ادارے نے اپنے معیاری نقشے میں کشمیر کو باقاعدہ ایک متنازع علاقہ قرار دیا ہے۔

اس منظور ہونے والی قرار داد کے تحت روایتی مرکیٹر نقشے کے بجائے ایکول ارتھ نقشہ اپنانے کی حمایت کی گئی ہے اور اس اہم پیش رفت میں بھارت سمیت 164 ممالک نے اقوامِ متحدہ کے اس معیاری ایکول ارتھ نقشے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

اس نئے عالمی نقشے میں کشمیر کو واضح طور پر ایک متنازع علاقہ دکھایا گیا ہے، جبکہ لائن آف کنٹرول کو نقطہ دار لکیر سے نمایاں کیا گیا ہے۔

بھارت کی جانب سے اس قرار داد کے حق میں ووٹ دینے سے کشمیر کے حوالے سے اس کے نام نہاد اٹوٹ انگ کے بیانیے کی قلعی کھل گئی ہے اور بھارتی سرحدی دعوؤں کو شدید ترین سفارتی دھچکا پہنچا ہے۔

بھارت نے خود اس نقشے کی حمایت کر کے کشمیر کو اپنا اندرونی معاملہ قرار دینے کے اپنے ہی دعوے کو عالمی سطح پر معذور اور کمزور کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق بے بنیاد بھارتی دعوے مسترد کر دیئے

ملک کے اندر کشمیر کو بھارتی علاقہ دکھانے پر اصرار کرنے اور عالمی فورم پر متنازع نقشے کی حمایت کرنے سے نئی دہلی کا دوہرا معیار بھی دنیا کے سامنے عیاں ہو چکا ہے۔

اس فیصلے کے بعد بھارت کے اندر شدید مخالفت سامنے آئی، جس پر بھارتی وزارت خارجہ نے ایک مبہم وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ووٹ صرف نقشے کے جغرافیائی تناسب کے لیے تھا نہ کہ اس میں دکھائی گئی سرحدوں کے لیے۔

تاہم یہ وضاحت بھارتی تضاد کو دور کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے کیونکہ اگر اعتراض تھا تو ووٹنگ کے وقت نقشے پر سوال کیوں نہیں اٹھایا گیا۔

دوسری جانب پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھارت کی اس وضاحتی بیان کو سخت الفاظ میں مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کا منظور شدہ نقشہ ہی عالمی سطح پر قابلِ قبول ہے اور کشمیر کی متنازع حیثیت اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں سے بلکل واضح اور ثابت ہے۔

بھارت کئی دہائیوں سے نقشہ جاتی قوانین کے ذریعے عالمی اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر دباؤ ڈالتا رہا ہے، لیکن اقوامِ متحدہ کے اس نقشے پر بھارتی ووٹ نے کشمیر سے متعلق پاکستان کے اصولی مؤقف کی مکمل تائید کر دی ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔