برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں پر تجارتی پابندیاں لگا دیں

برطانیہ نے فرانس اور کینیڈا کے ساتھ مل کر مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر تجارتی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت پر فلسطینیوں کی نسل کشی کی سرپرستی کا الزام عائد کردیا۔
برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں پر سخت تجارتی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
برطانوی حکومت نے اسرائیلی انتظامیہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ انتہا پسند آبادکاروں کے ہاتھوں فلسطینی شہریوں کی نسل کشی جیسے سنگین عمل سے آنکھیں چرائے ہوئے ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے ایوانِ نمائندگان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم اسرائیل فلسطین تنازع پر برطانیہ کی نئی پالیسی کا آغاز ہے، جس کا مقصد محض ناانصافی کی نشاندہی کرنا نہیں بلکہ عملی اقدامات کرنا ہے۔
ان پابندیوں کے تحت غیر قانونی بستیوں میں تیار ہونے والے سامان کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی ہو گی، جبکہ بستیوں کی توسیع میں مدد فراہم کرنے والی کمپنیوں اور افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
برطانیہ نے یہ اقدام فرانس اور کینیڈا کے ساتھ مل کر اٹھایا ہے، اور تینوں ممالک نے مشترکہ اعلامیے میں دو ریاستی حل کو بچانے کے لیے اسے ایک اہم موڑ قرار دیا ہے۔
اس کے علاوہ اسرائیل نے جیریمی کوربن اور ڈیان ایبٹ سمیت 11 برطانوی ارکان پارلیمنٹ کے اسرائیل میں داخلے پر بھی پابندی لگا دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مقبوضہ مغربی کنارہ اسرائیل میں ضم نہیں ہوگا، عرب ممالک سے وعدہ توڑ نہیں سکتے، ٹرمپ
برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے عالمی عدالت انصاف کے 2024 کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضہ اور بستیوں کی توسیع کی پالیسی مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی تعریف کے تحت بستیوں میں رہنے والے دہشت گردوں کی جانب سے فلسطینیوں کو تشدد کے ذریعے نکالنا نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں سے جنگی جرائم کے ارتکاب کے شواہد مل رہے ہیں اور عالمی عدالتوں کو اس کا تعین کرنا ہو گا۔
برطانوی اعلان کے فوری بعد اسرائیل کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گڈون سار نے برطانوی الزام کو توہین آمیز جھوٹ قرار دیتے ہوئے شرقی یروشلم میں واقع برطانوی قونصلیٹ کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جو مغربی کنارے اور غزہ کے لیے برطانیہ کے سفارتی مشن کے طور پر کام کرتا تھا۔
اسرائیل کی جانب سے یروشلم کے مشرق میں واقع تزویراتی علاقے ای ون میں 1200 نئے مکانات کی تعمیر کے منصوبے کے بعد برطانیہ نے یہ نیا سخت مؤقف اپنایا ہے۔
برطانیہ کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے فلسطین کا علاقہ دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا، جس سے دو ریاستی حل ناممکن ہو جائے گا۔
دوسری جانب امریکی کانگریس کے بعض ارکان اور نمائندوں نے برطانوی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہوئے برطانوی کمپنیوں کو امریکہ میں تجارتی مشکلات سے خبردار کیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












