پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کے قریب جدید امریکی آبدوز نما ڈرون قبضے میں لے لیا

ایران نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کے جدید ترین زیرِ آب چلنے والے آبدوز نما ڈرون کو اپنے قبضے میں لینے کا دعویٰ کرتے ہوئے اس کی ویڈیو جاری کر دی۔
ایرانی پاسداران انقلاب کی بحری فوج نے بیان میں بتایا کہ ایک انتہائی پیچیدہ انٹیلی جنس اور آپریشنل کارروائی کے ذریعے آبنائے ہرمز کے داخلی راستے سے امریکی فوج کے خود کار آبدوز نما ڈرون کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق یہ زیرِ آب ڈرون 2025 میں امریکی بحریہ میں شامل کیا گیا تھا اور یہ جدید ترین انڈر واٹر ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق قبضے میں لیے گئے ڈرون کی شناخت ڈائیو ایل ڈی کے نام سے ہوئی ہے، جسے امریکہ کی نامور دفاعی ٹیکنالوجی کمپنی اینڈورل انڈسٹریز نے تیار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ کی جانب سے ایرانی ایوی ایشن انڈسٹری پر نئی اور سخت اقتصادی پابندیاں عائد
اس روبوٹک آبدوز نما ڈرون کی لمبائی تقریباً 5.8 میٹر اور وزن ساڑھے تین ٹن کے قریب ہے۔ یہ ڈرون سمندر کی گہرائی میں مسلسل 10 دنوں تک بغیر کسی انسان کے کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور 6 ہزار میٹر کی گہرائی تک جا سکتا ہے۔
یہ ڈرون سمندر کے اندر معلومات جمع کرنے، نگرانی کرنے، سمندری ماحول کا جائزہ لینے، مائن وئیرفئیر اور باریک بینی سے فوجی آلات نصب کرنے جیسے اہم مشنز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اس کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا تھری ڈی پرنٹڈ اور موڈیولر ڈیزائن ہے، جس کی وجہ سے اس میں نئے سینسرز اور جدید آلات بہت کم وقت میں نصب کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے واقعے کے حوالے سے اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی دعوے سے ایک روز قبل اس زیرِ آب ڈرون میں فنی خرابی پیدا ہو گئی تھی، جس کے باعث وہ ڈس کنیکٹ ہو گیا تھا۔
امریکی حکام نے وضاحت کی ہے کہ یہ انڈر واٹر ڈرون ایک پرانا ماڈل تھا اور اس میں کسی قسم کا حساس ڈیٹا، خفیہ سینسرز یا اہم معلومات موجود نہیں تھیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












