پاکستان میں افغان طلباء کی طبی تعلیم پر کوئی پابندی نہیں، پی ایم ڈی سی

پی ایم ڈی سی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں طبی تعلیم کے لیے افغان طلباء پر کوئی پابندی نہیں، تاہم غیر رجسٹرڈ طلباء کو قانونی حیثیت حاصل نہیں ہوگی۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے افغان طلباء کی طبی تعلیم کے حوالے سے جاری اعلامیے میں کہا ہے کہ تمام غیر ملکی طلباء پر کونسل کے قوانین اور ویزا پالیسی کا بلامتیاز اطلاق ہوتا ہے اور پاکستان میں طبی تعلیم حاصل کرنے کے لیے کسی بھی مخصوص قومیت یا بالخصوص افغان طلباء پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے۔
پی ایم ڈی سی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 200 سے زائد افغان میڈیکل طلباء کی نشان دہی کی گئی ہے، جن میں سے صرف 22 افغان طلباء پی ایم ڈی سی کے پاس قانونی طور پر رجسٹرڈ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : افغانستان میں طالبان انتظامیہ کے خلاف مسلح عوامی مزاحمت میں شدت
ان 22 رجسٹرڈ طلباء میں سے 14 طلباء اپنی تعلیم مکمل کر چکے ہیں، جبکہ 8 اگلے سال فارغ التحصیل ہوں گے۔ کونسل نے بتایا کہ بقیہ 176 افغان طلباء کے ریکارڈ اور دستاویزات کی تصدیق کا عمل فی الوقت جاری ہے۔
ترجمان نے اس بات کی وضاحت کی کہ صرف میڈیکل ڈگری حاصل کر لینا پاکستان میں قیام یا پریکٹس کا حق فراہم نہیں کرتا، بلکہ اس کے لیے درست ویزا اور پی ایم ڈی سی کا لائسنس ہونا انتہائی ضروری ہے۔ غیر رجسٹرڈ طلباء کو میڈیکل ایجوکیشن سسٹم کے تحت قانونی طالب علم تصور نہیں کیا جائے گا۔
تاہم متاثرہ طلباء کو کاغذی کارروائی مکمل کرنے اور ان کی باوقار واپسی کے لیے سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ کونسل نے اعادہ کیا کہ تمام قانونی ضوابط پر پورا اترنے والے غیر ملکی طلباء کو پاکستان میں خوش آمدید کہا جاتا ہے۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












