پاکستان کی بڑی عالمی سفارتی کامیابی، تخفیفِ اسلحہ کانفرنس کی سالانہ رپورٹ اتفاقِ رائے سے منظور

جنیوا: پاکستان نے ایک اہم عالمی سفارتی کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنی صدارت میں اقوام متحدہ کی کانفرنس آن ڈس آرمامنٹ (Conference on Disarmament) کی سالانہ رپورٹ اتفاقِ رائے سے منظور کرا لی ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق طاہر حسین اندرابی کی صدارت میں تخفیفِ اسلحہ کانفرنس نے اپنی سالانہ رپورٹ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو پیش کرنے کے لیے متفقہ طور پر منظور کی۔ بطور صدر طاہر حسین اندرابی نے رپورٹ کی تیاری، مشاورت اور منظوری کے عمل میں اہم کردار ادا کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے یہ اہم کامیابی کانفرنس کے اجلاس کے اختتام سے تین روز قبل حاصل کی، جو موجودہ عالمی سکیورٹی ماحول میں ایک نمایاں سفارتی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے بڑی طاقتوں کے درمیان اعتماد کے فقدان، جوہری ہتھیاروں سے متعلق حساس معاملات اور دنیا کے مختلف خطوں میں جاری فعال تنازعات کے باوجود رپورٹ پر اتفاقِ رائے حاصل کیا گیا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق رواں برس کانفرنس اپنے لائحۂ عمل اور ذیلی اداروں کے قیام پر اتفاق نہیں کر سکی، ایسے میں سالانہ رپورٹ کی منظوری 2026 میں کانفرنس کا واحد اہم ترین متفقہ فیصلہ بن گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جب رواں سال ادارے کا کوئی اور بڑا فیصلہ اتفاقِ رائے سے ممکن نہیں ہو سکا تو پاکستانی صدارت نے وہ نتیجہ حاصل کیا جس کی ناکامی کی گنجائش نہیں تھی۔
ذرائع کے مطابق طاہر حسین اندرابی کی زیرِ قیادت پاکستانی صدارت نے ایک بامعنی اور جامع رپورٹ پر بتدریج اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے نہایت باریک بینی اور مسلسل سفارتی مشاورت سے کام کیا۔ پاکستان نے تمام اہم وفود کے بنیادی مؤقف، سیاسی حساسیت اور قابلِ قبول حدود کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا۔
پاکستانی صدارت نے چار ہفتوں کے دوران کھلی اور غیر رسمی مشاورت کے علاوہ تمام علاقائی اور سیاسی گروپوں، بشمول بڑی طاقتوں، کے وفود کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتوں کا جامع سلسلہ جاری رکھا۔ مختلف تجاویز پر علاقائی و سیاسی گروپوں اور بڑی طاقتوں کے مؤقف کو سمجھنے کے بعد ایسا متن تیار کیا گیا جس پر زیادہ سے زیادہ ممالک کے لیے اتفاق کرنا ممکن ہو۔
سفارتی ذرائع کے مطابق طاہر حسین اندرابی نے کسی متن کو مسلط کرنے کے بجائے خود مفاہمتی زبان تیار کی اور اسے باقاعدہ پیش کیے جانے سے قبل متعلقہ وفود کے ساتھ غیر رسمی طور پر جانچا۔ جن نکات پر اتفاقِ رائے کی گنجائش پیدا ہوئی، انہیں نظرثانی شدہ متن میں شامل کیا گیا، جبکہ جہاں اتفاق ممکن نہیں تھا وہاں پاکستانی صدارت نے غیر ضروری پیش قدمی سے گریز کیا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کو کانفرنس کے دوران مبصر ریاستوں کی شرکت اور مذاکرات کو آگے بڑھانے سمیت انتہائی پیچیدہ مسائل کا بھی سامنا رہا۔ ان معاملات پر رکن ممالک کے مؤقف میں نمایاں اختلاف موجود تھا، تاہم پاکستانی صدارت نے مختلف اطراف سے آنے والے دباؤ کے باوجود توازن برقرار رکھا اور مجموعی اتفاقِ رائے کو متاثر ہونے سے بچایا۔
کانفرنس آن ڈس آرمامنٹ کے 65 رکن ممالک ہیں اور سالانہ رپورٹ کی منظوری کے لیے تمام ارکان کی رضامندی درکار ہوتی ہے۔ ان میں جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاستوں سمیت دنیا کے اہم عسکری اور سیاسی ممالک شامل ہیں، جس کے باعث رپورٹ پر اتفاقِ رائے کو اہم سفارتی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق رواں ماہ پاکستان کی کانفرنس آن ڈس آرمامنٹ کے 2026 کے اجلاس کی چھٹی اور آخری صدارت تھی۔ کانفرنس ہر سال اپنی سالانہ رپورٹ تیار کرکے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو پیش کرنے کی پابند ہے۔
ذرائع کے مطابق سالانہ رپورٹ کی منظوری اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ خاطر خواہ سیاسی عزم اور مؤثر سفارتی مشاورت کے ذریعے بعض حساس شعبوں میں پیش رفت ممکن ہے۔
اگلے مرحلے میں سالانہ رپورٹ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو ارسال کی جائے گی، جہاں اسے فرسٹ کمیٹی میں زیرِ غور لایا جائے گا۔ پاکستان کو اکتوبر میں جنرل اسمبلی میں سالانہ رپورٹ سے متعلق پیش کی جانے والی قرارداد پر مذاکرات کی رہنمائی بھی کرنا ہوگی۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












