بلیک میلنگ یا بندوق کے زور پر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، وزیر داخلہ بلوچستان

بلوچستان کے وزیر داخلہ نے نوجوانوں کے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بندوق اور دہشتگردی کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔
کوئٹہ میں نوجوانوں کے مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے واضح کیا ہے کہ معاشرے میں تشدد کے بجائے قلم کا راستہ، تباہی کی بجائے ترقی اور نفرت کے بجائے امن و محبت کی فضا قائم کرنا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ حکومت نے کبھی بھی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے اور نہ ہی مذاکرات سے انکار کیا ہے، تاہم بندوق کے زور پر یا بلیک میلنگ کے تحت کسی بھی قسم کے مذاکرات ہرگز نہیں کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، فتنہ الہندوستان کے 11 دہشت گرد ہلاک
ان کا کہنا تھا کہ بات چیت صرف اور صرف انہی لوگوں سے کی جائے گی، جو پاکستان کے آئین اور یہاں کے ریاستی نظام کو تسلیم کرتے ہیں۔ ہمیں اس بحث سے باہر نکلنا ہوگا کہ مذاکرات کس سے ہونے چاہئیں اور کس سے نہیں۔
میر ضیاء اللہ لانگو نے زور دیا کہ اب تمام توجہ صرف اور صرف بلوچستان اور پورے پاکستان کی حقیقی ترقی، امن، خوشحالی اور عوام کے بہتر مستقبل پر مرکوز ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی، تشدد اور نفرت کے رجحانات کو ہم سب کو مل کر یکسر مسترد کرنا ہوگا۔ جو عناصر امن کو تباہ کرنا چاہتے ہیں، عوام کو لسانی یا علاقائی بنیادوں پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں اور معصوم جانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، ان کے ناپاک عزائم کو ہرگز کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی مہذب معاشرے میں ریاست اور آئین کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے عناصر کے سامنے ریاستی نظام کو کمزور کرنے کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ بندوق، دہشتگردی اور طاقت کے بل بوتے پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











