ہفتہ، 26-ستمبر،2026
جمعہ 1448/04/14هـ (25-09-2026م)

وزیراعظم خصوصی ریلیف اسکیم: رجسٹریشن اور فیول ٹوکن کا ڈیجیٹل طریقہ کار جاری

14 ستمبر, 2026 08:59

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اعلان کردہ خصوصی پیٹرول ریلیف اسکیم کے تحت مستحق شہریوں کی رجسٹریشن اور فیول ٹوکن کے حصول کے لیے ڈیجیٹل نظام متعارف کرا دیا گیا ہے، جس کے ذریعے شہری گھر بیٹھے رجسٹریشن کا عمل مکمل کرسکیں گے۔

وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن نے وزیراعظم کی خصوصی ریلیف اسکیم کے لیے خودکار ڈیجیٹل نظام تیار کیا ہے۔ حکومتی تفصیلات کے مطابق اسکیم کی رجسٹریشن، اہلیت اور طریقہ کار سے متعلق معلومات pmfuelrelief.pk پر دستیاب ہیں۔

رجسٹریشن کا طریقہ کار

حکومت کے مطابق شہری اپنے نام پر رجسٹرڈ موبائل سم کے ذریعے مقررہ فارمیٹ میں ایس ایم ایس بھیج کر رجسٹریشن کراسکتے ہیں۔ کامیاب رجسٹریشن کی صورت میں درخواست گزار کو موبائل فون پر تصدیقی پیغام موصول ہوگا۔

رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد فیول ٹوکن حاصل کرنے کے لیے موبائل فون سے TOK لکھ کر 9771 پر ایس ایم ایس بھیجنا ہوگا۔

درخواست کی تصدیق اور منظوری کے بعد شہری کو موبائل فون پر فیول ٹوکن موصول ہوگا۔ یہ ٹوکن متعلقہ پٹرول پمپ پر دکھانے کے بعد تصدیق کی جائے گی، جس کے نتیجے میں مستحق شہری کو رعایتی نرخ پر پیٹرول فراہم کیا جائے گا۔

کن شہریوں کو ریلیف ملے گا؟

وزیراعظم شہباز شریف کے اعلان کے مطابق خصوصی ریلیف اسکیم کا مقصد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو کم کرنا اور کم و متوسط آمدنی والے طبقات کو فوری مالی سہولت فراہم کرنا ہے۔

اسکیم کے تحت:

  • موٹرسائیکل، رکشہ اور چنگچی سمیت دو اور تین پہیوں والی سواریوں کے لیے ماہانہ 20 لیٹر پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے ریلیف دیا جائے گا۔
  • اس حساب سے ان صارفین کو ماہانہ زیادہ سے زیادہ 2 ہزار روپے تک فائدہ حاصل ہوگا۔
  • 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ 30 لیٹر پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے ریلیف دیا جائے گا۔
  • چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ زیادہ سے زیادہ 3 ہزار روپے تک ریلیف مل سکے گا۔

اسکیم کا اطلاق کب ہوگا؟

وزیراعظم کے مطابق اسلام آباد میں خصوصی ریلیف اسکیم کا اطلاق آئندہ پیر اور منگل کی درمیانی شب سے کیا جائے گا، جبکہ پورے پاکستان، بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان، میں اسکیم بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سے نافذ ہوگی۔

وزیراعظم نے کہا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پر پڑنے والے اضافی بوجھ کا حکومت کو مکمل احساس ہے اور مشکل کی اس گھڑی میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

عالمی تیل کی قیمتوں کا پاکستان پر اثر

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت، روپے کی قدر، درآمدی اخراجات، پیٹرولیم لیوی، ٹیکسز اور دیگر متعلقہ اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ حکومت عموماً ہر پندرہ روز بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی ہے۔

عالمی سطح پر خام تیل مہنگا ہونے کی صورت میں پاکستان کے درآمدی بل پر دباؤ بڑھتا ہے، جس کے اثرات مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی سامنے آتے ہیں۔ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ٹرانسپورٹ اور اشیائے خورونوش سمیت روزمرہ استعمال کی متعدد اشیا کے اخراجات کو بھی متاثر کرتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہونے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جس کے تناظر میں حکومت نے چھوٹی گاڑیوں، موٹرسائیکلوں اور رکشوں کے صارفین کے لیے براہِ راست پیٹرول ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعظم نے اسکیم کے لیے موٹرسائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں سے متعلق معلومات کی فراہمی میں تعاون پر صوبائی حکومتوں کا بھی شکریہ ادا کیا ہے۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔