بلوچستان نے ریاست مخالف بیانیہ چلانے پر یونیورسٹی اساتذہ سمیت 100 سرکاری ملازمین کو برطرف کردیا

حکومت بلوچستان نے ریاست مخالف بیانیہ چلانے پر سخت ایکشن لیتے ہوئے 100 سرکاری ملازمین کو برطرف کر دیا ہے۔
ریاست مخالف بیانیے کے خلاف زیرِتعدد اقدامات کے تحت محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان نے سخت کارروائی کرتے ہوئے 100 سرکاری ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کر دیا ہے۔
معاون خصوصی محکمہ داخلہ بابر یوسفزئی نے میڈیا کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ تمام برطرف سرکاری ملازمین پاکستان مخالف بیانیہ سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر چلا رہے تھے جو کہ ان کے سرکاری حلف کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ریاست کے خلاف بیانیے پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور جو لوگ سرکاری مراعات اور تنخواہیں تو پاکستان سے لے رہے ہیں لیکن ملک کے خلاف زہر اگلنے سے باز نہیں آتے، انہیں اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے ضلع مستونگ میں کارروائی، 3 دہشتگرد ہلاک
محکمہ داخلہ بلوچستان کے مطابق برطرف کیے جانے والے کل 100 ملازمین میں 95 یونیورسٹی اساتذہ شامل ہیں، جو تعلیمی اداروں میں بیٹھ کر طلبا میں منفی پروپیگنڈا پھیلا رہے تھے، جبکہ اس کے علاوہ محکمہ صحت کے 3 ملازمین سمیت دیگر محکموں کے افراد بھی اس زد میں آئے ہیں۔
بابر یوسفزئی نے بتایا کہ مزید دو اساتذہ کے خلاف بھی ایسے ہی کیسز اس وقت زیرِ التوا ہیں، جن پر جلد فیصلہ متوقع ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ملک دشمن عناصر کے خلاف گھیرا مزید تنگ کیا جائے گا۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












