اتوار، 20-ستمبر،2026
اتوار 1448/04/09هـ (20-09-2026م)

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، کسی کے خلاف نہیں : ڈی جی آئی ایس پی آر

16 ستمبر, 2026 12:17

ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہپاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، معاہدے کا دائرہ کار نئے شراکت داروں تک بھی پھیل سکتا ہے۔

ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے العریبہ کو انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ مکہ مشترکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور یہ کسی کے خلاف نہیں۔ معاہدے کا مقصد مشترکہ دفاع ہے جبکہ اس میں جارحیت یا مداخلت کا کوئی عنصر شامل نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حملے کی صورت میں ردعمل کا فیصلہ تینوں ممالک کی قیادت کرے گی، جبکہ دفاعی وعدوں کی آپریشنل تفصیلات خفیہ رکھی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : مکہ معاہدہ خطے میں امن اور ترقی کیلئے ہے، بھارت دوبارہ حملے کی ہمت نہیں کرے گا، خواجہ آصف

انہوں نے کسی دوسرے ملک کے خلاف اتحاد کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ تینوں ممالک کے دہائیوں پرانے اسٹریٹجک تعلقات کو باضابطہ شکل دیتا ہے اور اجتماعی دفاع پر مبنی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ معاہدہ مسلم ممالک کے ساتھ علاقائی امن و سلامتی کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ دفاعی معاہدے کا دائرہ کار نئے شراکت داروں تک بھی پھیل سکتا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان کے امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ تعلقات اسے امن کا غیر جانبدار ثالث بناتے ہیں۔ پاکستان کا واحد مقصد تنازعے کے پھیلنے کو روکنا اور تصفیہ طلب معاملات کو بات چیت سے حل کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدہ پاکستان کے چین کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کی تکمیل کرتا ہے۔

انہوں نے بھارتی عسکری اخراجات اور افغانستان سے ہونے والے حملوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے ہونے والے حملوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے اور افغانستان میں کسی قسم کی مداخلت نہیں چاہتے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔