ایران میں امریکا کے جنگی جرائم کے معقول شواہد موجود ہیں، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے ماہرین نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایران میں دو حملوں کے دوران امریکا کی جانب سے جنگی جرائم کے ارتکاب کے معقول شواہد موجود ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے ایک نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران میں فروری کے دوران کیے جانے والے دو میزائل حملوں میں کم از کم 177 شہری شہید ہوئے، جن کے بارے میں معقول شواہد موجود ہیں کہ یہ امریکا کی طرف سے جنگی جرائم کا ارتکاب تھے۔
آزاد عالمی فیکٹ فائنڈنگ مشن کی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میناب کے ایک پرائمری اسکول اور لامرد کے ایک اسپورٹس کمپلیکس پر ہونے والے حملے اندھا دھند تھے، جن کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں اور شہری انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔
یہ بھی پڑھیں : سلامتی کونسل امریکی جنگی جرائم کی فوری مذمت کرے، ایرانی سفیر کا خط
امریکا نے اس سے قبل لامرد پر حملے کی تردید کی تھی اور میناب کے واقعے کی تحقیقات کا دعویٰ کیا تھا، تاہم امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے اس رپورٹ کے نتائج کو مسترد کر دیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتاگیا کہ جنوری کے دوران حکومت مخالف بڑے مظاہروں پر کریک ڈاؤن کے دوران ایرانی حکام نے بھی انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کی جانے والی یہ کارروائیاں ملک کے تمام 31 صوبوں میں بڑے پیمانے پر کی گئیں۔
فیکٹ فائنڈنگ مشن نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے شہری ایک طرف اپنی حکومت کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور دوسری طرف امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع کی چکی میں پس رہے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











