اتوار، 20-ستمبر،2026
اتوار 1448/04/09هـ (20-09-2026م)

حوثی ملیشیا بحیرۂ احمر میں اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے، پاکستان

19 ستمبر, 2026 09:51

پاکستان نے باب المندب آبنائے میں تجارتی جہازوں پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ان کارروائیوں کی فوری بندش کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار احمد نے کہا کہ حوثی ملیشیا کو اشتعال انگیز کارروائیاں فوری طور پر روکنی چاہئیں، کیونکہ ان کے بحری سلامتی، علاقائی امن اور استحکام پر سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

سلامتی کونسل کا یہ اجلاس بحرین کی درخواست پر منعقد ہوا۔ اس سے دو روز قبل بھی کونسل کو باب المندب کے اطراف تیزی سے بگڑتی ہوئی صورت حال پر بریفنگ دی گئی تھی۔

اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل خالد خیاری نے اجلاس کو بتایا کہ باب المندب اور اس کے اطراف کی صورت حال مسلسل زیادہ کشیدہ اور غیر یقینی ہوتی جا رہی ہے۔

عاصم افتخار احمد نے کہا کہ حوثی ملیشیا کے حملوں سے بحری سلامتی کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور خطے کے ممالک، خصوصاً سعودی عرب کے امن اور ترقی کو بھی خطرات لاحق ہیں۔

انہوں نے سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی کارروائیوں کو کھلی اور بلااشتعال جارحیت قرار دیتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان سعودی قیادت، حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی میں کھڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ باب المندب اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی میں رکاوٹیں ظاہر کرتی ہیں کہ سمندری تنازعات کے اثرات متاثرہ علاقوں سے کہیں آگے تک پہنچ سکتے ہیں۔

عاصم افتخار کے مطابق اہم بحری گزرگاہوں میں تجارتی جہاز رانی میں خلل اور تجارتی جہازوں پر حملوں نے واضح کردیا ہے کہ سمندری بحران براعظموں اور مختلف ممالک کے لیے بھی سنگین اثرات کا باعث بن سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان بحری گزرگاہوں میں غیر یقینی صورت حال سے نہ صرف امن و استحکام کو خطرات لاحق ہیں بلکہ توانائی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور عالمی سطح پر غذائی عدم تحفظ کے خدشات بڑھے ہیں۔

پاکستانی سفیر نے آبنائے ہرمز کو انتہائی اہم بحری تجارتی راستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں پیدا ہونے والی رکاوٹوں، بشمول تجارتی جہازوں پر حملوں، پر پاکستان کو گہری تشویش ہے۔

عاصم افتخار نے سمندری سلامتی سے متعلق پاکستان کے مؤقف کو ایران اور امریکا کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد اسلام آباد کی سفارتی کوششوں سے بھی جوڑا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے آغاز پر سفارتی رابطوں کے ذریعے ثالثی کی کوششیں کیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دوست ممالک اور شراکت داروں کی حمایت سے پاکستان نے کشیدگی میں کمی اور وسیع تر علاقائی استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی قیادت کی، جس کے نتیجے میں جنگ بندی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ہوا۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان سمندر اور خشکی پر معمول کے حالات کی جلد بحالی کے لیے زیر التوا مسائل کا مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے پاکستان خطے اور اس سے باہر تمام امن پسند ممالک کے ساتھ مل کر سمندری امن و سلامتی، تجارتی جہازوں اور بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرنے کا خواہاں ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔