منگل، 22-ستمبر،2026
منگل 1448/04/11هـ (22-09-2026م)

مالی شمولیت کے لیے ٹیکنالوجی کے ساتھ مؤثر قوانین بھی ناگزیر ہیں، بلال بن ثاقب

22 ستمبر, 2026 15:19

نیویارک 2026: پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پیوارا) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے اقوام متحدہ کے سوشل بزنس، یوتھ اینڈ ٹیکنالوجی فورم سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے عالمی جنوب کے لیے منصفانہ مالی مستقبل کی تشکیل، مالی شمولیت کے فروغ اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال پر زور دیا ہے۔

پیوارا کے کمیونیکیشن یونٹ کے مطابق فورم کے افتتاحی سیشن میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر، بھوٹان کے وزیراعظم، نوبیل امن انعام یافتہ پروفیسر محمد یونس اور دیگر عالمی شخصیات نے شرکت کی۔

بلال بن ثاقب نے اپنے خطاب میں کہا کہ مصنوعی ذہانت اور ٹوکنائزیشن ترقی پذیر ممالک میں مالی شمولیت کو فروغ دینے کے طاقتور ذرائع بن سکتے ہیں، تاہم صرف جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانا کافی نہیں بلکہ اس کے لیے مؤثر مالیاتی نظام، واضح قوانین اور مضبوط ریگولیٹری فریم ورک بھی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں تقریباً ایک ارب 30 کروڑ نوجوان اب بھی رسمی مالیاتی نظام سے باہر ہیں، جبکہ مالیاتی سہولتوں سے محروم تقریباً 90 کروڑ افراد کے پاس موبائل فون موجود ہیں۔ ان کے بقول یہ صورتحال ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے مالیاتی خدمات تک رسائی بڑھانے کے وسیع امکانات کو ظاہر کرتی ہے۔

چیئرمین پیوارا نے کہا کہ پاکستان نے ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں واضح ریگولیٹری فریم ورک قائم کیا ہے اور ورچوئل ایسٹس ایکٹ 2026 کے بعد اس شعبے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کے لیے ریگولیٹری سینڈ باکس اور لائسنسنگ نظام متعارف کرایا گیا ہے تاکہ نئی ٹیکنالوجی، اختراعات اور کاروباری سرگرمیوں کو ایک منظم قانونی ماحول فراہم کیا جاسکے۔

بلال بن ثاقب کے مطابق پاکستان میں ورچوئل اثاثوں کے صارفین کی تعداد چار کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کا محض صارف بننے کے بجائے اس کی تیاری اور ترقی میں بھی کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو اپنی ٹیکنالوجی اور مالیاتی مستقبل کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ مصنوعی ذہانت، ٹوکنائزیشن اور دیگر جدید مالیاتی ٹیکنالوجیز کو مؤثر قواعد و ضوابط کے ساتھ استعمال کرکے مالیاتی سہولتوں سے محروم آبادی کو معاشی نظام کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے نوجوان اختراع کاروں پر زور دیا کہ وہ غربت، بے روزگاری اور مالیاتی عدم مساوات جیسے مسائل کے حل کے لیے نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھائیں اور ایسے عملی حل تیار کریں جو ترقی پذیر ممالک کی ضروریات سے مطابقت رکھتے ہوں۔

چیئرمین پیوارا کا کہنا تھا کہ حقیقی مالی شمولیت ٹیکنالوجی اور مؤثر ریگولیشن کے امتزاج سے ہی ممکن ہے۔ پاکستان ڈیجیٹل اثاثوں اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک ایسے مالیاتی نظام کے قیام کا خواہاں ہے جس میں نوجوانوں اور مالیاتی سہولتوں سے محروم طبقات کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔