ایران کو تباہ کریں یا دوبارہ سنبھلنے کا موقع دیں، بڑا فیصلہ کرنا ہے: صدر ٹرمپ

نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا اور کہا کہ انہیں ایک بڑا فیصلہ کرنا ہے کہ ایران کو تباہ کر دیا جائے یا اسے دوبارہ سنبھلنے کا موقع دیا جائے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے تہران پر مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام اور دہشت گردی کی سرپرستی کے الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران اب پہلے کی طرح خطے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔
ایران سے معاہدہ کرنا چاہا، تہران نے انکار کردیا: ٹرمپ
امریکی صدر نے کہا کہ ان کی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کی کوشش کی، تاہم تہران نے پیشکش قبول نہیں کی۔
انہوں نے ایرانی حکومت کے طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کی موجودہ پالیسی اس کی طاقت نہیں بلکہ کمزوری کی عکاس ہے۔
ٹرمپ نے ایران کی معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایرانی معیشت تباہ ہو چکی ہے اور ملک میں مہنگائی کی شرح 300 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ تاہم اس شرح کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران سے معاہدے کا امکان
صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ نومبر میں ہونے والے امریکی مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران کے ساتھ معاہدہ ہو جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت امریکی مڈٹرم انتخابات کے نتائج دیکھنا چاہتی ہے تاکہ ان کی سیاسی پوزیشن کا اندازہ لگا سکے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایرانیوں کو یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ خود مڈٹرم انتخابات میں امیدوار ہی نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی مڈٹرم انتخابات 3 نومبر 2026 کو ہوں گے، جن میں کانگریس اور مختلف ریاستی عہدوں کے لیے ووٹنگ ہوگی، صدر کا انتخاب نہیں ہوگا۔
امریکا پہلے سے زیادہ طاقتور ہے، امریکی صدر کا دعویٰ
اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے امریکی معیشت، دفاعی صلاحیت اور داخلی سلامتی سے متعلق بھی متعدد دعوے کیے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا آج ماضی کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہے، ملک ترقی کر رہا ہے اور اس کا مستقبل پہلے سے کہیں زیادہ روشن ہے۔
ٹرمپ کے مطابق امریکا میں دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ سرمایہ کاری ہو رہی ہے، امریکی فوج دنیا کی طاقتور ترین فوج ہے اور ملکی سرحدیں پہلے سے زیادہ محفوظ ہیں۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکا میں قتل کی وارداتوں کی شرح 125 سال کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ غربت میں بھی ریکارڈ کمی ہوئی ہے۔ ان معاشی اور جرائم سے متعلق اعداد و شمار کی اس خبر کے لیے آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
امریکی صدر نے کہا کہ دیگر رہنماؤں نے امن کی باتیں کیں، لیکن انہوں نے عملی طور پر امن قائم کرنے کے لیے اقدامات کیے۔
آبنائے ہرمز سے ایک ارب بیرل تیل کی ترسیل کا دعویٰ
صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ نے اس اہم سمندری گزرگاہ سے ایک ارب بیرل تیل کی ترسیل ممکن بنائی۔
انہوں نے ایران کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں امریکی فوجی طاقت اور بحری سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا۔ ایک ارب بیرل تیل سے متعلق دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوانے کا دعویٰ دہرادیا
صدر ٹرمپ نے جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران ایک مرتبہ پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوانے کا ذکر کیا۔
انہوں نے اس معاملے کو اپنی سفارتی کوششوں کے حوالے سے پیش کیا۔ تاہم پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے خاتمے میں امریکی کردار کی نوعیت کے بارے میں دونوں ممالک کے مؤقف میں اختلاف رہا ہے۔
عالمی فوجداری عدالت سے نکل جائیں، ٹرمپ کا رکن ممالک سے مطالبہ
امریکی صدر نے اپنے خطاب میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ عدالت سے فوری طور پر دستبردار ہو جائیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ کوئی عالمی ادارہ امریکا پر اپنا ایجنڈا مسلط نہیں کر سکتا اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کو امریکی شہریوں پر دائرۂ اختیار حاصل نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ امریکی فوجی اہلکاروں کو کسی ایسے بین الاقوامی ٹریبونل کے سامنے پیش ہونے کی اجازت نہیں دیں گے جسے ان کی انتظامیہ امریکا مخالف سمجھتی ہے۔
ٹرمپ نے عدالت کے رکن ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے اس ادارے سے باضابطہ انخلا کا مطالبہ دہرایا۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت ایک معاہدے کے تحت قائم ادارہ ہے، جبکہ امریکا اس کے بنیادی معاہدے، روم اسٹیٹیوٹ، کا فریق نہیں ہے۔ عدالت کے دائرۂ اختیار اور امریکی مؤقف کے حوالے سے طویل عرصے سے اختلافات موجود ہیں۔
ایران کے مستقبل اور عالمی اداروں پر امریکی مؤقف نمایاں
صدر ٹرمپ کے خطاب میں ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے، مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی، امریکی فوجی طاقت، ملکی معیشت اور بین الاقوامی اداروں کے کردار جیسے موضوعات نمایاں رہے۔
انہوں نے ایران کے خلاف سخت بیانات کے ساتھ مڈٹرم انتخابات کے بعد سفارتی معاہدے کی امید بھی ظاہر کی، تاہم کسی نئے معاہدے یا فوجی اقدام کی حتمی تفصیلات پیش نہیں کیں۔
ادارتی وضاحت: یہ خبر فراہم کردہ خطاب کے متن کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ایران کی مہنگائی، امریکی غربت و جرائم کی شرح اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل سے متعلق اعداد و شمار کو صدر ٹرمپ کے دعوؤں کے طور پر پیش کیا گیا ہے، مصدقہ حقائق کے طور پر نہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











