بدھ، 23-ستمبر،2026
بدھ 1448/04/12هـ (23-09-2026م)

افغان مزاحمتی تحریکوں کے طالبان کیخلاف حملے تیز، تاجکستان سمیت وسطی ایشیا ہائی الرٹ

23 ستمبر, 2026 11:18

افغانستان میں سیکیورٹی کی صورتحال بدتر ہو گئی، تاجکستان کی سرحد سے متصل صوبہ بدخشاں میں مسلح جھڑپوں نے طالبان کے امن کے دعوے کو جھوٹا ثابت کر دیا۔

افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح کارروائیوں میں تیزی آنے لگی ہے اور تاجکستان کی سرحد سے متصل صوبہ بدخشاں میں مسلح جھڑپوں نے طالبان کے مکمل کنٹرول کے دعوے کا پردہ چاک کر دیا ہے۔

افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق افغانستان فریڈم فرنٹ، یونائیٹڈ فرنٹ اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ جیسی تحریکیں احمد مسعود، جنرل یاسین ضیاء اور جنرل سمیع سادات کی قیادت میں متحرک ہیں اور انہوں نے محض اگست کے مہینے میں افغان طالبان کے خلاف کم از کم 50 مزاحمتی کارروائیاں کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پانچ دہائیوں تک افغانوں کو پناہ دی، لیکن ان کی نفرت میں کمی نہیں آئی، وزیر دفاع

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق مئی سے جولائی کے دوران 2 ہزار 947 سیکیورٹی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ ہیں۔

افغانستان میں سرگرم 14 مسلح مخالف گروہوں نے ملک کے 21 صوبوں میں 88 بڑے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ دی ٹائمز آف سینٹرل ایشیا کے مطابق افغانستان سے پنپتی دہشت گردی اور دراندازی کے بڑھتے ہوئے خطرے نے تاجکستان سمیت دیگر اجتماعی سلامتی معاہدہ تنظیم کے رکن ممالک کو روبیژ 2026 جنگی مشقیں منعقد کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔