ہفتہ، 26-ستمبر،2026
ہفتہ 1448/04/15هـ (26-09-2026م)

بی جے پی کا ہندوتوا ایجنڈا، بھارت میں اسلام دشمنی سر چڑھ کر بولنے لگی

26 ستمبر, 2026 08:49

نئی دہلی: بھارت میں مسلمانوں کی مذہبی املاک اور عبادت گاہوں کے حوالے سے جاری تنازعات کے درمیان نئی دہلی کے علاقے شالیمار باغ میں مدینہ مسجد کے ایک حصے کو رات گئے مسمار کردیا گیا، جس پر مقامی مسلمانوں اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق شالیمار باغ میں میکس اسپتال روڈ پر میونسپل کارپوریشن آف دہلی (MCD) کی جانب سے سڑک کشادہ کرنے کی کارروائی کی گئی، جس کے دوران مدینہ مسجد کے حصے اور اردگرد موجود بعض مکانات کو بھی منہدم کیا گیا۔

کارروائی کے دوران علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات تھے اور انہدامی کارروائی رات گئے شروع ہوکر صبح تک جاری رہی۔ مقامی رہائشیوں اور مسجد کمیٹی کے ارکان نے کارروائی کے وقت اور طریقہ کار پر سوالات اٹھائے۔

مسجد سے وابستہ افراد نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں مناسب وقت نہیں دیا گیا اور کارروائی کے دوران مسجد کے اندر موجود ضروری دستاویزات، قرآن مجید کی نقول اور دیگر سامان نکالنے کیلئے بھی خاطر خواہ مہلت نہیں ملی۔ یہ مؤقف AIMIM کے دہلی صدر شوائب جمالی نے بھی موقع پر بیان کیا۔

شوائب جمالی نے مسجد کی رات کے وقت مسماری کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کارروائی پر شدید احتجاج کیا اور کہا کہ شالیمار باغ کو ایک اور سہارنپور نہیں بننے دیا جائے گا۔

مدینہ مسجد کے امام اور مسجد سے وابستہ افراد نے بھی انتظامیہ کی کارروائی پر اعتراضات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسجد کے کچھ حصوں کو غیر قانونی قرار دینے کے معاملے پر ان کی جانب سے قانونی کارروائی جاری تھی اور انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کیلئے مزید وقت ملنا چاہیے تھا۔

دوسری جانب بھارتی حکام کا مؤقف ہے کہ کارروائی سڑک کی توسیع کے منصوبے کے تحت روڈ الائنمنٹ میں آنے والے ڈھانچوں اور تجاوزات کو ہٹانے کیلئے کی گئی۔ MCD ذرائع کے مطابق متعلقہ افراد کو پہلے نوٹس بھی جاری کیے گئے تھے۔

بھارت میں مسلم املاک کے خلاف انہدامی کارروائیوں پر سوالات

شالیمار باغ کا واقعہ بھارت میں مسلم مذہبی مقامات اور املاک سے متعلق حالیہ انہدامی کارروائیوں کے وسیع تر تناظر میں سامنے آیا ہے۔

ایک حالیہ رپورٹ میں 2020 سے 2026 کے دوران بھارت کی مختلف ریاستوں میں مساجد، مدارس، مزارات اور دیگر مسلم مذہبی یا کمیونٹی املاک کے خلاف 2,166 رپورٹ شدہ کارروائیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ نے واضح کیا ہے کہ یہ تعداد 2,166 انفرادی طور پر تصدیق شدہ مسماریوں کی حتمی گنتی نہیں بلکہ مختلف سرکاری اعداد، عدالتی ریکارڈ، میڈیا رپورٹس، جزوی انہدام اور مجموعی اعداد و شمار پر مشتمل ہے۔

ان کارروائیوں کیلئے بھارتی حکام کی جانب سے مختلف مقامات پر تجاوزات، غیر مجاز تعمیرات، سرکاری یا جنگلات کی زمین پر قبضے اور سڑکوں کی توسیع جیسے جواز پیش کیے گئے ہیں، جبکہ متاثرہ مسلم تنظیموں اور شہریوں نے متعدد معاملات میں قانونی اور طریقہ کار سے متعلق اعتراضات اٹھائے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق دہلی کے علاوہ اتر پردیش، اتراکھنڈ، گجرات، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، راجستھان، تلنگانہ اور آسام سمیت کئی ریاستوں میں بھی مسلم مذہبی مقامات سے متعلق انہدامی یا بے دخلی کی کارروائیاں سامنے آچکی ہیں۔

سہارنپور میں ایک تاریخی مسجد کا انہدام بھی حالیہ عرصے میں شدید سیاسی اور قانونی بحث کا موضوع بنا۔ اس معاملے میں مسجد کمیٹی نے عدالت سے رجوع کیا، جبکہ الہ آباد ہائیکورٹ نے ستمبر میں ریاستی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے تقریباً 6.41 کروڑ روپے کی ریکوری پر مزید احکامات تک روک لگا دی۔

مسلم تنظیموں اور بعض بھارتی سیاسی رہنماؤں نے ان واقعات کو مسلمانوں کے مذہبی حقوق اور مساوی قانونی تحفظ کے تناظر میں تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جبکہ حکام کی جانب سے کئی کارروائیوں کو تجاوزات یا تعمیراتی قوانین کے نفاذ سے جوڑا گیا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔