غزہ میں استعمال کا خدشہ، برطانیہ نے اسرائیل کے 80 سے زائد ہتھیاروں کے برآمدی لائسنس معطل کر دیے

برطانیہ نے فلسطین میں جاری غیر قانونی قبضے اور غزہ کی سنگین صورتحال کے پیش نظر اسرائیلی عسکری سازوسامان کے مزید برآمدی لائسنس معطل یا مسترد کر دیئے۔
برطانیہ کی حکومت نے عسکری سازوسامان سے وابستہ 80 سے زائد ایسے برآمدی لائسنسوں کو یا تو معطل کر دیا ہے یا ان کی درخواستوں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے، جو فلسطینی علاقوں میں قابض اسرائیلی افواج کے زیر استعمال آسکتے ہیں۔
یہ قدم برطانوی فوجی امداد پر بڑھتی ہوئی عوامی و سیاسی تنقید اور ان نئی پابندیوں کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے، جو خاص طور پر فلسطینی سرزمین کے قبضے کو طول دینے والی برآمدات کو ہدف بناتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : انتہا پسند اسرائیلی وزیر کا فلسطینیوں قیدیوں کو قتل اور شہریوں کو غزہ سے بے دخل کرنے کا اعلان
دستیاب رپورٹس کے مطابق اس مجموعی تعداد میں ستمبر 2024ء کے دوران معطل کیے جانے والے تقریباً 30 لائسنس اور اس کے بعد موصول ہونے والی 50 سے زائد ایسی درخواستیں شامل ہیں، جنہیں مسترد کر دیا گیا۔
اس کے باوجود، برطانیہ ان تمام تجارتی اور عسکری برآمدات کی منظوری بدستور جاری رکھے ہوئے ہے جو اس کے اپنے طے کردہ لائسنسنگ معیار پر پورا اترتی ہیں۔
برطانوی حکومت کی جانب سے گزشتہ ستمبر میں متعارف کرائے گئے نئے پالیسی اقدامات کے تحت یہ اضافی شرط بھی عائد کر دی گئی ہے کہ وہ اسلحہ یا دیگر سامان جو فلسطینی علاقوں پر غیر قانونی قبضے میں مدد فراہم کرتا ہو، اس کی تمام درخواستیں اب مسترد کر دی جائیں گی۔
دوسری جانب اس حکومتی فیصلے پر شدید برہم ہو کر اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مشرقی القدس میں قائم برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جسے قانونی ماہرین نے غیر قانونی قرار دیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












