امریکہ نے ایرانی ہتھیاروں کی خریداری میں ملوث دس شخصیات اور اداروں پر پابندی لگا دی

امریکہ نے ایران کے عسکری پروگرام کی مبینہ مالی معاونت اور سازوسامان کی غیر قانونی خریداری میں ملوث ہونے کے الزام میں دس شخصیات اور اداروں پر نئی اور سخت ترین پابندیاں عائد کر دیں۔
امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف اپنے اقتصادی دباؤ اور محاصرے کو جاری رکھنے کے فیصلے کے بعد امریکی وزارت خزانہ کے دفتر برائے کنٹرول آف فارن ایسٹس نے دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے 10 شخصیات اور تجارتی اداروں پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ان تمام نامزد کردہ عناصر پر یہ سنگین الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ ایرانی وزارت دفاع کے لیے خفیہ طور پر جدید ہتھیار، عسکری اجزاء اور دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجی کی خریداری اور اس کی فراہمی میں براہ راست ملوث ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : فوجی ناکامی کے بعد دشمن نے ایران میں انتشار پھیلانے کی سازش شروع کر دی ہے، ایرانی صدر
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اقتصادی کارروائی کے موجودہ فریم ورک کے تحت ان تمام نیٹ ورکس اور عناصر کو بے رحمی سے نشانہ بنایا جائے گا، جو ایرانی حکومت کو کسی بھی قسم کی مادی، تکنیکی یا مالی مدد فراہم کرتے ہیں، تاکہ تہران اپنی عسکری سرگرمیاں جاری نہ رکھ سکے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی وزارت خزانہ ایرانی حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کے خفیہ یا ظاہری عسکری تعاون کو قطعی طور پر برداشت نہیں کرے گی اور ان تمام عناصر کا پردہ فاش کر کے انہیں دنیا بھر میں مکمل طور پر تنہا کر دیا جائے گا۔
حکام کے مطابق اس نئے امریکی اقدام کا بنیادی مقصد تہران کی حکومت کو اس بات سے محروم کرنا ہے کہ وہ اپنے اسلحہ سازی کے پروگراموں اور بیلیسٹک میزائلز کو دوبارہ تعمیر یا وسعت دے سکے۔
اس سلسلے میں چین، ہانگ کانگ اور دیگر ممالک سے کام کرنے والے افراد مثلاً بیجنگ میں ایرانی وزارت دفاع کے نمائندے سید اصغر علی زادہ طباطبائی، کافوشکوم ایشیا ریسرچ گروپ اور دیگر کمپنیوں کو بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے تاکہ ایران کو ہر ممکنہ راستے سے کاٹ دیا جائے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












