بدھ، 30-ستمبر،2026
بدھ 1448/04/19هـ (30-09-2026م)

ٹیکنالوجی کے بے قابو ہونے کے خطرات اور ٹرمپ کا مصنوعی ذہانت پر ضابطے نہ لگانے کا فیصلہ

30 ستمبر, 2026 11:30

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کسی بھی قسم کی حکومتی پابندیاں عائد کرنے سے انکار کے بعد یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ آیا یہ فیصلہ امریکہ کو معاشی برتری دلائے گا یا کسی بڑے عالمی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقات کے دوران مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سخت ضابطے اور پابندیاں لگانے کے مطالبے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

دوسری جانب ان کمپنیوں میں شامل اینتھراپک نامی ادارے نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اس کے تیار کردہ ماڈلز انسانیت کے لیے تباہ کن یا وجودی خطرہ بن سکتے ہیں۔

اس کے باوجود صدر ٹرمپ نے ان خدشات کو سیاسی مخالفین کا پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ یہ صنعت خود اپنی نگرانی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس پر کوئی قدغن نہیں لگائی جانی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکا میں مصنوعی ذہانت کو بے قابو ہونے سے روکنے کیلئے چھ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا معاہدہ

صدر ٹرمپ کا یہ قدم ایک بہت بڑا جگرے کا کام یا جوا ہے، کیونکہ ایک طرف جہاں وہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے امریکہ کو اپنے حریف چین پر برتری دلانا چاہتے ہیں اور اس شعبے کی ترقی کو روکنا نہیں چاہتے، وہیں دوسری طرف اس سے بہت سے سنگین خطرات بھی جڑے ہوئے ہیں۔

اگر آنے والے وقت میں مصنوعی ذہانت کے سسٹمز کسی قومی یا عالمی سطح کے بڑے سائبر بحران کا باعث بنتے ہیں یا کارپوریٹ و سرکاری ویب سائٹس کو ہیک کرنے کا سلسلہ سنگین شکل اختیار کرتا ہے، تو اس کا سارا سیاسی اور اخلاقی بوجھ براہ راست صدر ٹرمپ پر ہی آئے گا۔

اس وقت امریکہ کی غالب اکثریت یعنی پچہتر فیصد عوام مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ سے خوفزدہ ہیں اور اکہتر فیصد افراد وفاقی حکومت سے اس شعبے میں سخت ضابطے اور قوانین نافذ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اس کے باوجود صدر ٹرمپ کا یہ اصرار کہ صنعت خود اپنی نگرانی کرے گی، ایک ایسے غیر یقینی مستقبل کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں ٹیکنالوجی کے بے قابو ہونے کے خطرات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔