وفاقی آئینی عدالت نے انکم ٹیکس قانون کا سیکشن سات ای کالعدم قرار دے دیا

وفاقی آئینی عدالت نے حکومت کے خلاف ایک بڑا اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے انکم ٹیکس قانون کے سیکشن سات ای کو کالعدم قرار دے دیا ہے، جس سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو بڑی راحت ملی ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے ایک تاریخی اور انتہائی اہم فیصلہ سناتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے نافذ کردہ انکم ٹیکس قانون کے سیکشن سات ای کو مکمل طور پر کالعدم قرار دے دیا ہے۔
چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان نے اس کیس کا مختصر فیصلہ پڑھ کر سنایا، جس کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے سیکشن سات ای کی بحالی کے لیے دائر کی گئی تمام اپیلیں خارج کر دی گئی ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ اس سیکشن کے تحت ایف بی آر نے اب تک جتنے بھی اقدامات اٹھائے تھے، وہ سب غیر قانونی اور کالعدم تصور ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں : سیمنٹ کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ٹیکسوں کے باعث ہے، مسابقتی کمیشن کی رپورٹ
یاد رہے کہ اس قانون کے تحت ایسے پلاٹس پر بھی ٹیکس عائد کر دیا گیا تھا، جو شہریوں کے زیر استعمال نہیں تھے، جس پر عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا۔
کیس کے پس منظر میں پشاور، بلوچستان اور اسلام آباد ہائی کورٹس نے پہلے ہی اس سیکشن کو کالعدم قرار دیا تھا، تاہم اسلام آباد اور لاہور ہائی کورٹس کے کچھ بینچز نے اسے آئین کے عین مطابق قرار دیا تھا۔
وفاقی آئینی عدالت نے ان ہائی کورٹس کے فیصلوں کے خلاف شہریوں کی جانب سے دائر اپیلوں کو منظور کرتے ہوئے قانون کو غیر آئینی قرار دے دیا۔
عدالت نے اس کیس کا فیصلہ 30 اپریل کو محفوظ کیا تھا، جو آج سنایا گیا ہے۔ اس عدالتی فیصلے سے ملک کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو براہ راست بڑا فائدہ پہنچے گا اور رئی کی ہوئی سرمایہ کاری میں بہتری آنے کی امید ہے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










