ایران کیجانب سے مذاکرات میں تعطل؛ خام تیل پھر مہنگا

Bad News: Oil Prices Rise Again
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات معطل کیے جانے کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی آ گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے حالیہ علاقائی حالات اور بعض سیکیورٹی خدشات کے باعث امریکا کے ساتھ مذاکراتی عمل روک دیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد سرمایہ کاروں نے فوری ردعمل دیا اور تیل کی خریداری میں اضافہ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں اوپر چلی گئیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمت تقریباً 97 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل بھی 94 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا ہے۔ چند روز قبل تک قیمتوں میں نسبتاً کمی دیکھی جا رہی تھی، تاہم نئی جغرافیائی صورتحال نے مارکیٹ کا رخ بدل دیا ہے۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق سرمایہ کار اس خدشے کا شکار ہیں کہ اگر ایران اور امریکا کے تعلقات مزید کشیدہ ہوئے یا آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہی خدشات قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ بن رہے ہیں۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مئی کے مہینے میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی تھی، جو کئی برسوں میں سب سے بڑی ماہانہ گراوٹ میں شمار کی جا رہی تھی۔ لیکن موجودہ سیاسی صورتحال نے اس رجحان کو تبدیل کر دیا ہے اور قیمتیں دوبارہ اوپر جانے لگی ہیں۔
دوسری جانب روس، سعودی عرب، قازقستان اور دیگر بڑے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی پیداوار اور پالیسی فیصلے بھی عالمی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔
پاکستان جیسے درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے یہ صورتحال اہمیت رکھتی ہے۔ عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کا اثر مستقبل میں مقامی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے، جس سے عوام اور صنعتوں پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










