جمعہ، 12-جون،2026
جمعہ 1447/12/26هـ (12-06-2026م)

ٹیکس دہندگان اور ایف بی آر افسران کا براہ راست رابطہ ختم، نیا فیس لیس ماڈل متعارف

05 جون, 2026 13:46

وزیراعظم نے ایف بی آر کے ٹیکس نظام میں کرپشن اور ہراسانی کے خاتمے کے لیے آڈٹ اور اسیسمنٹ کے نئے ڈیجیٹل فیس لیس ماڈل کی اصولی منظوری دے دی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایف بی آر کے نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت آڈٹ اور اسیسمنٹ کا نیا فیس لیس ماڈل متعارف کرایا جا رہا ہے۔

اس نئے ڈیجیٹل نظام کا نفاذ رواں سال اکتوبر سے 3 مختلف مراحل میں کیا جائے گا۔ اس اصلاحاتی ماڈل کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ٹیکس دہندگان اور ایف بی آر افسران کے درمیان ہر قسم کا براہِ راست رابطہ مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا اور تمام تر کارروائی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منتقل ہو جائے گی۔

اس مقصد کے لیے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک نیشنل فیس لیس آڈٹ ونگ قائم کیا جائے گا، جہاں آڈٹ اور نگرانی کا کام 100 فیصد آن لائن ہوگا۔

اس کے علاوہ ایک نیشنل اسیسمنٹ ونگ بنایا جائے گا، جو ٹیکس اسیسمنٹ، شوکاز نوٹسز جاری کرنے اور ریفنڈز کی منظوری دینے کا ذمہ دار ہوگا، جبکہ فیلڈ آپریشن ونگ کو صرف ٹیکس ریکوری، نئی رجسٹریشن اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کی ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔ اس طرح ٹیکس افسران کے صوابدیدی اختیارات کو 3 الگ الگ ونگز میں تقسیم کر دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں : خواجہ آصف کی سگریٹ پر ٹیکس شرح کم کرنے کی تجویز

ایف بی آر کے ڈیٹا کے مطابق ملک میں 8 ہزار 697 ایسے بڑے افراد موجود ہیں، جنہوں نے اپنے بینک اکاؤنٹس میں 750 ارب روپے کے بھاری ڈپازٹس ہونے کے باوجود اپنی سالانہ آمدن صفر ظاہر کی ہے۔

اس کے علاوہ مالیاتی شعبے میں 98.9 فیصد بڑے اکاؤنٹ ہولڈرز کی جانب سے اپنی اصل آمدن کم ظاہر کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

ایف بی آر نے یہ بھی بتایا کہ جائیداد خریدنے والوں میں سے تقریباً 80 فیصد افراد نے ٹیکس بچانے کے لیے اپنے لین دین کی مالیت اصل سے بہت کم دکھائی ہے۔

نئے نظام کے تحت اب آڈٹ کیسز کا انتخاب کسی انسان کے بجائے کمپیوٹر الگورتھم کے ذریعے ہوگا تاکہ انسانی مداخلت اور کرپشن کا راستہ روکا جا سکے۔

اب ٹیکس گوشوارے پہلے سے تیار شدہ معلومات کے ساتھ آن لائن دستیاب ہوں گے، جس سے فائلنگ کا وقت گھنٹوں سے کم ہو کر صرف چند منٹوں میں آ جائے گا کیونکہ شہریوں کی تنخواہ، بینکنگ، جائیداد اور گاڑیوں کا ڈیٹا خودکار طور پر ٹیکس ریٹرن میں شامل ہو جائے گا۔

انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے لیے ایک ہی مربوط ٹیکس دہندہ اکاؤنٹ متعارف کرایا جائے گا۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ فیس لیس ٹیکس نظام کرپشن، ٹیکس دہندگان کی ہراسانی اور افسران کے صوابدیدی اختیارات میں نمایاں کمی لائے گا اور اس کا پورا ڈیجیٹل ریکارڈ محفوظ رہے گا۔

حکومت مستقبل میں ٹیکس اپیلوں کو بھی اسی فیس لیس نظام میں منتقل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس نئے فیس لیس ٹیکس نظام کو چلانے کے لیے تقریباً 200 نئے افسران مکمل طور پر میرٹ پر بھرتی کیے جائیں گے، جنہیں مارکیٹ کے مطابق پرکشش تنخواہیں دینے کی تجویز ہے۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔