اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا

کراچی، 14 ستمبر 2026: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد مانیٹری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ یہ فیصلہ بلند مہنگائی، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ملکی معیشت کو درپیش مختلف چیلنجز کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی بلند شرح بدستور ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ اگست میں مہنگائی کی سالانہ شرح 11.5 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ اشیائے خورونوش اور توانائی کی قیمتیں مہنگائی کے مجموعی رجحان پر اثرانداز ہونے والے اہم عوامل میں شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق پالیسی ریٹ کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ مارکیٹ کی توقعات کے عین مطابق ہے۔ مارکیٹ کے بیشتر شرکاء موجودہ مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے کے حق میں تھے، جس کی وجوہات میں مثبت حقیقی شرح، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، کرنٹ اکاؤنٹ کی نسبتاً مستحکم صورتحال اور بیرونی فنانسنگ کے امکانات میں بہتری شامل ہیں۔
پالیسی ریٹ برقرار رہنے سے کاروباری اداروں، سرمایہ کاروں اور قرض لینے والوں کو فوری طور پر فنانسنگ لاگت میں اضافے کا سامنا نہیں ہوگا۔ اس فیصلے سے پالیسی سازوں کو بھی مزید وقت ملے گا کہ وہ جائزہ لے سکیں کہ موجودہ مہنگائی کے رجحانات عارضی ہیں یا مستقبل میں بھی برقرار رہنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب، سابق وزرائے خزانہ نے پالیسی ریٹ 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے کی حمایت کر دی
سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ پالیسی ریٹ برقرار رکھنے کا اسٹیٹ بینک کا فیصلہ خوش آئند ہے، فی الحال پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار ہے، جو مہنگائی پر قابو پانے کے ساتھ معاشی سرگرمیوں، مالیاتی استحکام اور مجموعی معاشی حالات کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے محتاط پالیسی اپروچ کی عکاسی کرتا ہے۔
مفتاح اسماعیل نے بھی پالیسی ریٹ برقرار رکھنے کے فیصلے کو دانشمندانہ قرار دے دیا، ان کا کہنا تھا کہ پالیسی ریٹ میں استحکام معیشت کے لیے بہتر ہے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










