پیر، 27-جولائی،2026
پیر 1448/02/13هـ (27-07-2026م)

غزہ میں یہودی بستیوں کا اسرائیلی منصوبہ

17 اکتوبر, 2024 15:13

مظلوم فلسطینیوں کی نسل کشی کے ساتھ غزہ کو مکمل ہڑپ کرنے کے ناپاک اسرائیلی منصوبے میں تیزی آ گئی ہے۔

نیتن یاہو کی حکمران جماعت لیکوڈ پارٹی اپنی اتحادی دائیں بازو کی شدت پسند مذہبی جماعتوں کے اشتراک سے ایک خوفناک اور گھناونے منصوبے پر عمل درآمد کر رہی ہے، منصوبے کے تحت تمام فلسطینیوں کو غزہ سے دوسرے ممالک جبری بے دخل کر کے وہاں یہودی بستیاں قائم کی جائیں گی اور اس منصوبے کو ‘غزہ میں یہودی بستیاں قائم کرنے کی تیاری’ کا نام دیا گیا ہے۔

حکمران جماعت لیکوڈ پارٹی اس حوالے سے ایک ایونٹ منعقد کر رہی ہے جس میں متعدد وزرا اور اسرائیلی پارلیمنٹ کے لیکوڈ ممبران شامل ہوں گے۔

ایونٹ کے تحت غزہ کی بارڈر پر واقع یہودی بستی کا دورہ کیا جائے گا، غزہ میں یہودی بستیاں قائم کرنے سے متعلق پینل گفتگو اور سوال و جواب کا سلسلہ ہوگا۔ ایونٹ کا مقصد غزہ میں یہودی بستیاں قائم کرنے کے حوالےسے رائے عامہ ہموار کرنا ہے۔

اس حوالے سے لیکوڈ کی اتحادی دائیں بازو کی شدت پسند جماعتیں پہلے ہی متعدد کانفرنسوں اور سیمناروں کا انعقاد کر چکی ہے، جس میں قومی سلامتی کے وزیر بن گویر اور وزیر خزابہ بزلیل سموتریچ علی الاعلان غزہ کے فلسطینیوں کو نکال باہر کر کے وہاں یہودی بستیوں کا اعلان کر چکے ہیں۔

منصوبے کے تحت غزہ کے فلسیطینیوں کو کسی دوسرے ملک بےدخل کیا جائے گا، اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق اس حوالے سے اسرائیلی حکومت سعودی عرب اور افریقی ملک کانگو سے مذاکرات میں مصروف ہے۔

اس کے علاوہ مصر کو بھی غزہ کے فلسطینیوں کو صحرائے سینا میں آباد کرنے کے بدلے اربوں ڈالر کی پیشکش کی گئی ہے جسے تاحال مصر نے اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

اس انسان دشمن منصوبے کے تحت غزہ فلسطینوں کے لیے ناقابل رہائش بنا دیا گیا ہے، پناہ گزین کیمپوں، اسپتالوں، اسکولوں پر وحشیانہ بمباری کر کے فلسطینیوں کا اتنا زیادہ قتل عام کیا جا رہا ہے کہ وہ غزہ سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو جائیں۔

اسرائیل اس منصوبے کو ‘رضاکارانہ ہجرت’ کا نام دے کر غزہ سے باہر جانے والے فلسطینیوں کو سعودی عرب، کانگو یا مصر کے صحرائے سینا میں دھکیلنا چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لیے فلسطینی پناہ گزین کیمپوں پر وحشیانہ بمباری کا سلسلہ پہلے ہی شروع ہے، پانی و خوراک اور امدادی اشیاء بھی اس لیے فلسطینیوں تک نہیں پہنچنے دی جا رہیں تاکہ وہ تنگ آ کر غز-ہ سے نکل جائیں۔

لیکوڈ اور دائیں بازو کی انتہا پسند اسرائیلی سیاسی جماعتوں کے برعکس اپوزیشن جماعتیں غز-ہ میں یہودی بستیاں قائم کرنے کے حق میں نہیں۔ یہ جماعتیں غز-ہ اور اسرائیل کے درمیان ایک بفر زون قائم کرنا چاہتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے شمالی غزہ میں بسنے والے تین سے چار لاکھ فلسطینیوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے جو فلسطینی شمالی غزہ کی طرف واپس آنا چاہ رہے ہیں، اسرائیل ان پر بمباری کر رہا ہے۔

اس منصوبے کے تحت اسرائیل شمالی غزہ میں ایک ملٹری زون قائم کرےگا۔ اس علاقے میں حماس پر خوراک، پانی و اسلحہ کی سپلائی بند کی جائے گی اور شمالی غزہ میں باقی رہ جانے والے ہر فلسطینیوں کو جنگجو قرار دے کر قتل کر دیا جائے گا اور زیر زمین سرنگوں کو تباہ کر کے ملٹری زون قائم کر دیا جائے گا۔

اس منصوبے کو ‘جنرل پلان’ کا نام دیا گیا ہے، جو اسرائیلی فوج کے ایک سابق جنرل نے تیار کیا ہے۔

غزہ میں یہودی آباد کاروں کا منصوبہ ہو یا ملٹری زون کسی ایک پر بھی عمل درآمد لاکھوں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی پر منتج ہوگا جو فلسطینیوں کے لیے ایک اور ‘نکبہ’ یا تباہی ثابت ہو گی۔

عالمی برادری خاص کر بےحس مسلمان حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ امریکہ و اسرائیل کے اس سامراجی پروجیکٹ پر عمل درآمد روکنے کے لیے عملی کردار ادا کریں۔

نوٹ: جی ٹی وی نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے اتفاق کرنا ضروری نہیں۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔