پاکستان کی کامیاب سفارتی حکمت عملی، ٹرمپ کے پسندیدہ فیلڈ مارشل اور ثالثی کا کردار

پاکستان نے اپنی روایتی سفارت کاری سے ہٹ کر ایک نئی حکمت عملی کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعتماد حاصل کیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ ایران اور امریکہ کے درمیان ایک اہم ثالث بن کر ابھرا ہے۔
اسلام آباد، جو کبھی امریکہ کی تنقید کا مرکز رہتا تھا، آج ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے۔
یہ ایک غیر متوقع تبدیلی ہے، کیونکہ پاکستان نہ تو اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے اور نہ ہی ماضی میں صدر ٹرمپ کے ساتھ اس کے تعلقات خوشگوار رہے ہیں۔
تاہم، گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے صدر ٹرمپ کے ’تجارتی سفارتی انداز‘ (ٹرانزیکشنل اپروچ) کو سمجھ کر ایک ایسی مہم چلائی، جس نے واشنگٹن اور اسلام آباد کو قریب کر دیا۔
سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے سابق چیئرمین مشاہد حسین سید کے مطابق پاکستان نے ٹرمپ کو تین چیزیں کرپٹو کرنسی، اہم معدنیات اور دہشت گردی کے خلاف تعاون فراہم کیں، جو ان کی ترجیحات تھیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کو مذاکرات کرنا ہوں گے، ورنہ وہ انجام ہوگا، جو کبھی نہیں دیکھا، ٹرمپ کی پھر دھمکی
پاکستان نے ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کے آغاز میں کابل سے امریکی افواج کے انخلاء کے دوران امریکی اہلکاروں پر حملے کے ذمہ داروں کا سراغ لگایا، جس سے عسکری تعاون کی بنیاد مضبوط ہوئی۔
مزید برآں، پاکستان کی وزارت خزانہ نے ٹرمپ خاندان کی کرپٹو کمپنی سے منسلک فرم کے ساتھ معاہدہ کیا اور اہم معدنیات کی فراہمی کے لیے بھی ہاتھ ملایا۔
وزیراعظم پاکستان کی جانب سے ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنا اور بھارت کے ساتھ جنگ بندی کرانے پر ان کا شکریہ ادا کرنا اس کڑی کا حصہ تھا۔ اکتوبر تک صدر ٹرمپ نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل قرار دے دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کا ایٹمی قوت ہونا اور ایران و امریکہ دونوں کا اس پر اعتماد اسے ایک منفرد ثالث بناتا ہے۔
اگرچہ پاکستان میں معاشی بحران اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عوام کو پریشان کر رکھا ہے، لیکن سفارتی محاذ پر یہ پاکستان کے لیے ایک فیل گڈ لمحہ ہے۔
تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ جب تک ان سفارتی کامیابیوں کے اثرات عام آدمی کی زندگی اور معیشت پر ظاہر نہیں ہوتے، تب تک یہ صرف سرخیاں ہی رہیں گی۔
اسلام آباد کے عام شہری، جو مہنگائی اور شہر کی بندش سے پریشان ہیں، ان مذاکرات سے صرف یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ پیٹرول اور گیس کی قیمتوں میں کمی آئے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












