اتوار، 10-مئی،2026
اتوار 1447/11/23هـ (10-05-2026م)

کس طرح سی آئی اے کی تکنیکی ناکامی نے ایران میں امریکی جاسوسی نیٹ ورک کو ختم کردیا

10 مئی, 2026 10:34

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے مواصلاتی نظام میں مجرمانہ غفلت اور تکنیکی خامیوں نے ایران سمیت دنیا بھر میں پھیلے اس کے درجنوں جاسوسوں کی زندگیاں داؤ پر لگا دیں۔

جاسوسی کی دنیا میں بھروسہ سب سے بڑی کرنسی ہوتی ہے، لیکن امریکی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) نے اپنے ایرانی مخبروں کے ساتھ جو سلوک کیا، وہ غداری اور غفلت کی ایک ایسی داستان ہے، جس نے عالمی سطح پر امریکی ساکھ کو خاک میں ملا دیا ہے۔

سن 2010 کی ایک سرد شام تہران کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پیش آنے والا واقعہ اس المیے کا نقطہ آغاز تھا۔ غلام رضا حسینی، جو ایک پیشہ ور انڈسٹریل انجینئر تھے، بینکاک جانے کے لیے تیار تھے، جہاں انہیں اپنے امریکی ہینڈلرز سے ملاقات کرنی تھی۔

لیکن ہوائی اڈے پر ایگزٹ ٹیکس کی ادائیگی کے دوران ان کا بینک کارڈ مسترد ہونا دراصل ان کی زندگی کی سب سے بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ تھا۔

ایرانی سکیورٹی حکام نے انہیں فوری حراست میں لے لیا اور ایک ویران لاؤنج میں تفتیش کا آغاز کر دیا۔ حسینی نے اپنی جان بچانے اور راز چھپانے کی آخری کوشش میں ایٹمی تنصیبات کے حساس ڈیٹا پر مشتمل میموری کارڈ دانتوں سے چبا کر نگل لیا، مگر انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ ان کے آقاؤں کی نالائقی کی وجہ سے تہران کے پاس پہلے ہی تمام معلومات پہنچ چکی تھیں۔

تحقیقات کے مطابق حسینی کی گرفتاری کسی انسانی مخبری کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ یہ سی آئی اے کے اس مواصلاتی نظام کی ناکامی تھی، جسے تکنیکی خودکشی قرار دیا جا رہا ہے۔

حسینی اپنے ہینڈلرز سے رابطے کے لیے ایک فٹ بال نیوز ویب سائٹ کا استعمال کرتے تھے، جو بظاہر سادہ تھی لیکن اس کی کوڈنگ اس قدر ناقص تھی کہ کوئی بھی عام ہیکر یا انٹیلی جنس ایجنسی محض ایک رائٹ کلک کے ذریعے اس کے خفیہ میسج باکس تک رسائی حاصل کر سکتی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سی آئی اے نے دنیا بھر میں اپنے سینکڑوں مخبروں کو چھپانے کے لیے ایک ہی سرور اور ایک ہی ترتیب کے آئی پی ایڈریسز استعمال کیے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران نے روس اور چین میں بھی امریکی جاسوسوں کی نشاندہی کی، مصطفیٰ پور محمدی

یہ بالکل ایسا ہی تھا، جیسے ایک ہی سڑک پر بنے ہوئے تمام گھروں کی چابی ایک جیسی ہو۔ جب ایرانی انٹیلی جنس نے ایک سرا پکڑا تو پوری عالمی زنجیر کھلتی چلی گئی، جس سے نہ صرف ایران بلکہ چین، روس اور برازیل جیسے ممالک میں بھی امریکی جاسوسی کا جال تار تار ہو گیا۔

اس پورے معاملے کا ایک اور افسوسناک پہلو سی آئی اے کا وہ طبقاتی نظام ہے، جس میں انسانی جان کی قیمت اس کے عہدے سے طے کی جاتی ہے۔

ایجنسی کے اعلیٰ درجے کے اثاثے، جیسے بڑے سائنسدان یا حکام، تو جدید ترین ٹیکنالوجی اور امریکہ میں آبادکاری کی ضمانت پاتے ہیں، لیکن حسینی جیسے نچلے درجے کے مخبروں کو استعمال کر کے پھینک دینے والی اشیاء سمجھا جاتا ہے۔

ان کے لیے نہ تو کوئی محفوظ حصار قائم کیا گیا اور نہ ہی گرفتاری کے بعد ان کی کوئی خبر لی گئی۔ سی آئی اے کے کاؤنٹر انٹیلی جنس کے سابق سربراہ جیمز اولسن نے بھی اس اخلاقی گراوٹ کا اعتراف کرتے ہوئے اسے ایجنسی کے لیے ایک بدنما داغ قرار دیا ہے۔

ایجنسی نے معصوم ایرانیوں کو پھنسانے کے لیے ویزا پلوئے یعنی ویزا کا جھانسہ دینے کا طریقہ بھی اپنایا۔ ویزا کے حصول کے لیے ترکی یا متحدہ عرب امارات آنے والے ایرانیوں کو زبردستی جاسوسی پر مجبور کیا گیا اور انکار کی صورت میں انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا۔

ایک ریٹائرڈ ایرانی افسر، جس نے امریکی گرین کارڈ لاٹری جیتی تھی، اسی سازش کا شکار ہو کر دس سال قید کی سزا کاٹ چکا ہے۔

اسی طرح محمد آقائی جیسے مخبروں کو جان بوجھ کر نگرانی والے مقامات پر ملاقات کے لیے بلایا گیا کیونکہ ایجنسی کے نزدیک ایک نئے رضاکار کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات کرنا ایک دردِ سر تھا۔

آج جیل سے رہا ہونے والے یہ جاسوس ایک زندہ لاش بن چکے ہیں۔ غلام رضا حسینی، جو کبھی کروڑ پتی انجینئر تھے، اب محض ڈھائی سو ڈالر ماہانہ پر معمولی کام کر رہے ہیں۔

ایجنسی نے دوبارہ گرفتاری کے خوف یا ڈبل ایجنٹ بننے کے شک میں ان سے تمام رابطے توڑ لیے ہیں۔ یہ بے رخی ثابت کرتی ہے کہ جب ایک سپر پاور اپنے وفاداروں کو صرف اعداد و شمار سمجھنے لگے، تو اس کی اخلاقی شکست یقینی ہو جاتی ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔