نوجوانوں میں ہارٹ اٹیک کے بڑھتے کیسز کی اصل اور خطرناک وجہ سامنے آگئی

Rising Heart Attacks Among Youth Linked to Diet
ہارٹ اٹیک ایک سنگین طبی مسئلہ ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب دل تک خون پہنچانے والی شریان میں خون کا بہاؤ بہت کم ہو جائے یا مکمل طور پر رک جائے۔
عام طور پر شریانوں میں چکنائی اور کولیسٹرول جمع ہونے سے یہ مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ شریانوں میں بننے والے اس اجتماع کو پلاک کہا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں پلاک پھٹنے سے خون کا لوتھڑا بن سکتا ہے، جس سے خون کی روانی متاثر ہوتی ہے۔
اب ایک نئی تحقیق میں خوراک اور دل کی صحت کے حوالے سے اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔ تحقیق کے مطابق الٹرا پراسیس غذاؤں کا زیادہ استعمال دل کے امراض کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ ان غذاؤں کو موجودہ دور میں بہت سے لوگ روزمرہ خوراک کا حصہ بنا چکے ہیں۔ تاہم ماہرین نے ان کے زیادہ استعمال سے محتاط رہنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
امریکن جرنل آف پریوینٹیو میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق میں الٹرا پراسیس غذاؤں اور امراض قلب کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ ایسی غذائیں ہارٹ اٹیک اور دیگر قلبی مسائل کے کئی کیسز میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔
الٹرا پراسیس غذائیں وہ اشیا ہوتی ہیں جنہیں تیار کرنے کے دوران کئی مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ ان میں اکثر نمک، چینی، چکنائی اور مختلف مصنوعی اجزا کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں فائبر اور دیگر مفید غذائی اجزا کم مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین ایسی غذاؤں کا زیادہ استعمال صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہیں۔
اس قسم کی غذاؤں میں فاسٹ فوڈ، ڈبل روٹی، کیک، مٹھائیاں، ٹافیاں، نمکین اشیا اور بعض بریک فاسٹ سیریلز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چکن اور فش نگٹس، انسٹنٹ نوڈلز، میٹھے مشروبات اور سوڈا بھی الٹرا پراسیس غذاؤں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ یہ اشیا آسانی سے دستیاب ہونے کی وجہ سے روزمرہ زندگی میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔
تحقیق کے دوران 2019 میں کینیڈا میں سامنے آنے والے امراض قلب کے ہزاروں کیسز کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے مختلف قلبی بیماریوں کے کیسز کا تجزیہ کیا۔ اس کا مقصد یہ جاننا تھا کہ ہارٹ اٹیک، فالج اور دیگر امراض قلب کے خطرے میں الٹرا پراسیس غذاؤں کا کتنا کردار ہو سکتا ہے۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق 23 سے 38 فیصد تک امراض قلب کے کیسز، جن میں ہارٹ اٹیک اور فالج بھی شامل ہیں، الٹرا پراسیس غذاؤں کے استعمال سے منسلک ہو سکتے ہیں۔ محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایسی غذاؤں کے استعمال میں کمی لانے سے دل کی بیماریوں کے کئی کیسز کو روکا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر الٹرا پراسیس غذاؤں کے استعمال میں 20 سے 50 فیصد تک کمی لائی جائے تو ہر سال امراض قلب کے لاکھوں ممکنہ کیسز سے بچاؤ ممکن ہو سکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے افراد کو اپنی مجموعی خوراک، طرز زندگی اور صحت کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
تحقیق کے نتائج میں کہا گیا ہے کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کے استعمال کو کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو اپنی خوراک میں تازہ اور کم پراسیس شدہ غذاؤں کو زیادہ جگہ دینی چاہیے۔ سبزیاں، پھل، دالیں اور دیگر غذائیت سے بھرپور غذائیں متوازن خوراک کا بہتر حصہ بن سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق صرف ایک قسم کی غذا کو ہارٹ اٹیک کی واحد وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دل کی صحت پر عمر، جسمانی سرگرمی، وزن، بلڈ پریشر، کولیسٹرول، تمباکو نوشی اور دیگر عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










